اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 137 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 137

137 آپ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب والے باغیچہ میں خیمہ زن ہوئے جہاں آپ نے پندرہ سولہ خیمے لگوائے اور قناتیں لگوائیں اور نمازوں وغیرہ کی ادائیگی کے لئے ایک بہت بڑا خیمہ بھی لگوایا۔باغ میں پہرہ خواجہ عبدالرحمن صاحب رینجر سابق پروانشل امیر کشمیر مرحوم۔ڈاکٹر عطرالدین صاحب حال در ولیش ڈاکٹر فضل الدین افریقوی اور دیگر طلبا دوسرے احباب کے علاوہ دیا کرتے تھے۔حضرت نواب صاحب نے بھی کچھ پہرہ دار پہرہ کی خاطر رکھے ہوئے تھے جن میں سے ایک حاکم علی سپاہی تھا جو سرکار کی طرف سے قادیان میں متعین تھا۔اسے حضرت نواب صاحب کچھ الاؤنس اپنے طور پر دیدیتے تھے (ع) انجمن مصلح الاخوان اور مدرستہ الاسلام کا قیام صلاح خلق اور بے لوث خدمت کا جو جذ بہ بے پایاں نواب صاحب کے قلب صافی میں متموج تھا اس سے مجبور ہو کر آپ نے مالیر کوٹلہ میں ایک انجمن بنام مصلح الاخوان ۱۸۹۶ء کے قریب اور اس انجمن کی زیر نگرانی ایک مدرسہ بنام مدرستہ الاسلام ۱۸۹۸ء کے لگ بھگ جاری کیا۔انجمن میں آپ نے معززین کو شامل کیا۔اس وقت نواب احمد علی خاں صاحب ولیعہد نابالغ تھے اس لئے بوجہ علالت نواب ابراہیم علی خاں ریاست کا کام چلانے کے لئے نواب امیر الدین خاں والی لوہارو سپرنٹنڈنٹ مقرر ہو چکے تھے۔حضرت نواب صاحب اس انجمن کے سیکرٹری بنے اور نواب لوہارو کو اس کا صدر بنایا۔اس مدرسہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا تھا لیکن بعد میں مرزا خدا بخش صاحب کو۔اس سے مولوی صاحب ناراض ہو کر وہاں سے چلے معزز الحکم میں مرقوم ہے: عالی جناب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ جو کئی ماہ سے اپنے بعض ذاتی کاروبار کے لئے لا ہور تشریف لے گئے ہوئے تھے ۲۷ / اپریل کی شب کو خیر و عافیت سے دار الامان واپس آ پہنچے اور باغ کے مغربی جانب ایک دوسرے باغیچہ میں خیمہ زن ہیں (۳) میاں حاکم علی کانٹیبل * متعینہ قادیان اس وقت نہایت مستعدی سے حفاظت قصبہ کر رہا ہے کیونکہ اکثر حصہ باہر نکلا ہوا ہے اور وہ بھی مختلف حصوں میں ساری رات اسے ادھر ادھر بھاگنا پڑتا ہے غرض ہر طرح سے تسلی بخش انتظام ہورہا ہے اور ایسے وقت میں یہ نہایت قابل قدر ہے“۔مکرم بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی و مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ امیر مقامی بیان کرتے ہیں کہ یہ فوت ہو چکے ہیں احمدی نہیں ہوئے تھے فیض اللہ چک کے باشندے تھے۔*