اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 88 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 88

88 شیروانی کوٹ میں ہوا جہاں ہر طرح کا مکمل انتظام تھا۔گھوڑا گاڑی بھی آپ کی ضرورت کے لئے وہاں تھی۔حضرت نواب صاحب شہر سے روزانہ شیروانی کوٹ جاتے تھے اور آپ سے قرآن مجید پڑھتے اور دو پہر کا کھانا آپ کی معیت میں تناول کر کے واپس آتے۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب ذکر کرتے ہیں کہ قریباً نصف سال میں حضرت والد صاحب نے قرآن مجید ختم کرلیا۔مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب و مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب سے تحصیل علم کی خاطر وہاں کئی ایک آپ کے شاگرد جمع ہو گئے تھے اور وہ با قاعدہ آپ کے درس و تدریس سے قادیان کی طرح مستفیض ہوتے تھے سب کے قیام و طعام کا انتظام کمال شفقت سے حضرت نواب صاحب کی طرف سے تھا۔ہم سب شاگردوں کی ہر طرح خاطر و تواضع ہوتی تھی اور بہترین کھانے ہمارے لئے تیار ہوتے تھے۔ایسی مرغن غذاؤں کے عادی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری خواہش ہوتی تھی کہ بعض اوقات دال وغیرہ ملے اور ہم بعض دفعہ باورچیوں سے کھانا تبدیل کر لیتے تھے لیکن حضرت نواب صاحب یہ پسند نہ کرتے تھے کہ ان کے مہمان ان کی مہماں نوازی میں بہترین کھانے سے محروم رہیں۔چنانچہ انہوں نے ایسی شدید فہمائش بقیہ حاشیہ : حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے حضرت نواب صاحب کو اس بارہ میں خط لکھا۔سو 4 اپریل کے جلد بعد حضرت مولوی صاحب ضرور وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ہم ذیل میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا مکتوب اور اس کا چپہ بہ درج کر دیتے ہیں فرماتے ہیں۔بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده و نُصَلّی مکرم معظم خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔حضرت مولوی صاحب کی بیماری کی خبر نے جو کئی روز ہوئے یہاں پہنچی تھی تمام متعلقین کو فعل در آتش کر رکھا ہے اور سب کے سب اس حیرت میں ہیں کہ پھر بعد اس کے کوئی خبر ان کی نسبت نہیں ملی۔آپ ازارو کرم کچھ اطمینان آمیز خبر دے سکتے ہیں؟ جناب مولوی محمد احسن صاحب جناب امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں اپنی شکستہ حالی اور اس پُر زور * لکھ کے عرض کر چکے ہیں اور رائے ٹھہری کہ حضرت اقدس ان کی طرف سے آپ کے نزدیک شفیع مشفع ہوں لہذا مجھے حکم ہوا کہ میں حضرت شفیع کی طرف سے ترجمان ہوں۔آپ کیا اس وقت ضعیف الحال مولوی پر رحم کر کے کچھ رہاسہا ان کا انہیں دے سکتے ہیں۔والسلام اصلی خط کا عکس پشت پر ملاحظہ فرمائیے۔* یہ لفظ پڑہا نہیں گیا۔(مؤلف) عاجز عبدالکریم۔سیالکوٹی یکم مئی۔از قادیان