اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 87 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 87

87 آپ کے ہمراہ آپ کے اہل بیت بھی تھے۔کچھ عرصہ آپ کا قیام شہر میں رہا۔پھر آپ کے قیام کا انتظام بقیہ حاشیہ: - ہے کہ حضرت اقدس کی تحریر کے وقت دوماہ کا عرصہ قیام تو ہو چکا تھا۔( بلکہ جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی اس سے بھی زیادہ ) باوجود اس کے حضور کا تحریر فرمانا کہ شاید مولوی صاحب ایک یا دو ماہ تک رہیں یا کچھ زیادہ رہیں۔یہ کل عرصہ قیام کے متعلق نہیں بلکہ مستقل قیام کے متعلق تھا۔مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب ( درویش ) ذکر کرتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کے کوٹلہ جانے سے میرا سبق بند ہو گیا۔میرے لکھنے پر آپ نے مجھے مالیر کوٹلہ بلوالیا۔-۵ -Y مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ( درویش ) کا بیان ہے۔کہ اکتوبر یا نومبر ۱۸۹۵ء میں میں حضرت اقدس کے حکم سے والد صاحب کے ہمراہ قادیان سے واپس گیا اور مارچ یا اپریل ۱۸۹۶ء میں واپس قادیان پہنچا۔یہ مجھے بخوبی یاد ہے کہ لکڑی کے موسم کا آغاز ہو چکا تھا اور میرے واپس آنے کے بعد میرے سامنے حضرت مولوی صاحب مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے۔میں مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب سے قرآن مجید کا سبق لیا کرتا تھا اور وہ مجھ سے پدرانہ شفقت سے پیش آتے تھے ان کے جانے سے میں اداس ہوا۔سبق بھی چھٹ گیا۔کم سن تھا۔میں نے ان کو لکھا کہ حضرت اقدس تو سارا دن اندرون خانہ ہوتے ہیں آپ کے جانے سے قرآن مجید کا سبق بھی رک گیا۔انہوں نے حضرت مولوی صاحب سے اجازت حاصل کر کے مجھے کرایہ بھیج کر مالیر کوٹلہ منگوالیا۔جلسہ اعظم مذاہب کے تعلق میں سوامی شوگن چندر صاحب غالباً اکتوبر یا نومبر میں قادیان آئے اس وقت تک حضرت مولوی صاحب ہمارے سمیت مالیر کوٹلہ سے واپس آچکے تھے۔سوامی صاحب جلسہ سے قبل کئی بار قادیان آئے اور حضرت اقدس سے مشورہ اور جلسہ کے انعقاد کے اخراجات کے لئے مالی امداد لے جاتے رہے۔۲۱ / دسمبر ۹۶ء کو مضمون کے غالب رہنے کے متعلق اشتہار جو حضور نے شائع فرمایا تھا میں ہی لے کر لاہور گیا تھا۔“ حضرت مولوی صاحب کی اس جلسہ میں شمولیت امر معلوم ہے ان امور سے حضرت مولوی صاحب کا قیام مالیر کوٹلہ میں اپریل سے اکتو بر تک کے درمیان معلوم ہوتا ہے۔مکرم بھائی صاحبان اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں حضرت مولوی صاحب مالیر کوٹلہ میں دردگردہ سے شدید بیمار ہوئے تھے تفصیل مذکورہ سے یہ ظاہر ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے جانے کے کچھ عرصہ بعد مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب اجازت منگوا کر گئے اور ان کے کچھ عرصہ بعدا جازت منگوا کر مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب وہاں گئے۔اور ان دونوں کے سامنے یہ بیماری ہوئی اور اس کی اطلاع قادیان میں پہنچی اور چند دن تک پھر کوئی اطلاع نہ آنے سے قادیان میں تشویش ہوئی جس پر یکم مئی کو