اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 81 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 81

81 علاوہ ازیں اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ نواب صاحب نے شیروانی کوٹ کی مسجد کے متعلق حضرت مولوی نورالدین صاحب سے مشورہ مانگا اور آپ کو مالیر کوٹلہ آنے کی دعوت دی۔حضرت مولوی صاحب کا جواب ۳۰ / جنوری ۹۶ء کا ہے۔حکومت کی وفاداری اور ملکہ وکٹوریہ کی جو بلی وغیرہ حضرت اقدس نے یہ امر جماعت کے قلوب میں پوری طرح راسخ فرمایا ہے کہ ملک میں قیام امن کا صحیح طریق یہ ہے کہ حکومت سے تعاون اور ہر ایک نوع کی باغیانہ تحریکات سے احتراز کرنا چاہیئے چونکہ انگریزوں کی حکومت سے پہلے حد درجہ بے امنی کا دور دورہ ہو چکا تھا جس کی تلخ یاد سے ہی دل دہل جاتے تھے۔سو انگریزوں کی حکومت میں جو امن و انصاف نصیب ہوا کہ جس میں بلا تفریق مذہب و ملت ہر ایک کو مذہبی حریت حاصل تھی اس لئے حضور اس حکومت کے ان اوصاف کی وجہ سے مداح تھے۔جون ۱۸۹۷ء میں ملکہ وکٹوریہ کی ساٹھ سالہ جو بلی کے موقعہ پر آپ نے قادیان میں ایک جلسہ منعقد کر کے احباب کو وفاداری اور پُر امن رہنے کی تلقین کی اور ملک کے امن وامان اور ملکہ کے قبول اسلام کے لئے دعا کی اور غربا میں کھانا تقسیم کیا۔اور رات کو چراغاں کیا گیا اس کے علاوہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ نے ایک کتاب ” تحفہ قیصریہ تحریر کر کے عمدہ طور پر جلد کرا کے ایک چٹھی کے ساتھ ملکہ کی خدمت میں ارسال کی ملکہ موصوفہ نے اس کے پڑھنے کا وعدہ کیا اور شکر یہ ادا کیا اس کتاب میں حضور نے جو بلی پر مبارکباد دینے کے ساتھ مذہب اسلام کی فضیلت بیان کی اور ملکہ معظمہ کو اس کے قبول کرنے کی دعوت دی اور مسلمانوں کے جہاد کے غلط نظریہ کی تغلیط کر کے اس کی حقیقت آشکار کی۔بقیہ حاشیہ : - جنتری دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۴ دسمبر اور پنجشنبہ کا اجتماع ۱۸۹۳ء،۱۸۹۹ ءاور ۱۹۰۵ء میں ہوا اگر یہ مکتوب ان تاریخوں میں سے کسی ایک کا ہو تو امر زیر تحریر کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔اور اگر بلالحاظ روز اس کی تاریخ درست سمجھی جائے تو اس کا تعلق امر زیر ذکر سے ہوتا ہے کہ ۱۴دسمبر ۱۸۹۵ ء تک حضرت نواب صاحب کی حالت یقیناً بدل چکی تھی۔البتہ یہ ۱۲ دسمبر ۹۵ء کا ہوسکتا ہے کہ اس روز پنجشنبہ تھا اور نقل کنندہ نے ۱۳ یا ۱۲ کی بجائے ۱۴ پڑھا۔یہ دونوں عدد ایک دوسرے سے مشابہ ہیں۔حضور کا قلمی مکتوب نہیں مل سکا کہ حقیقت معلوم ہوسکتی (مولف) جشن جو بلی کی تفصیل کے لئے حضرت اقدس کی کتاب ” جلسہ احباب ملاخطہ فرمائیے۔