اصحاب احمد (جلد 2) — Page 57
57 ۵۶ اب دعا پر ختم کرتا ہوں ایدكم الله من عنده ورحمكم في الدنيا والآخرة “ اس زمانہ کے امراء رؤساء کا طور وطریق کسی سے مخفی نہیں ان کا سارا دھیان اور سارا وقت صرف عیش و نغم ہوتا ہے۔عمر بھر میں چندلحات فی سبیل اللہ صرف کرنا ان کے لئے موت احمر سے زیادہ وبالِ جان ہوتے ہیں۔اس طبقہ میں خدا پرست لوگوں کا وجود کبریت احمر سے بھی نایاب تر ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے نواب صاحب قادیان کی گمنام بستی میں محض حصول رضاء الہی کے جذبہ سے معمور ہو کر پہلے تحقیق حق کے لئے ۱۸۹۰ء میں قادیان آئے۔اسی طرح آپ جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء کے موقعہ پر تشریف لائے اور آپ جیسے ناز و نعمت کے پروردہ شخص نے جلسہ کے اوقات جو متعدد ساعات پر ممتد تھے پورے انشراح وانبساط کے ساتھ نیچے فرش پر مسلسل بیٹھ کر گزارے اور یہ بات حصول رضاء الہی کے جذ بہ سے معموریت کے بغیر ممکن نہ تھی۔کوائف جلسه سالانه ۱۸۹۲ء ہم ذیل میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء کے کوائف پیر سراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ عنہ کی زبانی درج کر دیتے ہیں فرماتے ہیں: تین سو تیرہ صحابہ کا جلسہ ایک بڑے جلسہ پر جس میں تین سو تیرہ احباب علاوہ مخالفوں کے یا ان کے جو حسن ظن رکھتے تھے دار الامان قادیان میں حاضر ہوئے تھے۔ایک اونچا تخت چوبی حضرت اقدس علیہ السلام کے لئے بچھایا گیا اور اس پر ایک قالین کا فرش کرایا گیا اور آپ اس پر جلوہ افروز ہوئے اور چاروں طرف احباب فرش پر بیٹھے۔چاند کے گرد تارے۔سامنے حضرت خلیفہ اسی " یعنی شمال کی طرف اور مغرب کی طرف حضرت مولانا مولوی برہان الدین جہلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تخت کے قریب گوشہ مغرب و جنوب میں یہ عاجز اور اس عاجز کے داہنی مجھے یہ بات ۳۱۳ صحابہ میں سے میاں محمد الدین صاحب و اصلبانی * درویش نے منشی محمد جلال الدین صاحب بلانوی رضی اللہ عنہما سے روایت سنائی اور یہ بھی ان سے روایتا مجھے سنایا کہ جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ ء اس جگہ ہوا تھا جہاں مکرم ڈاکٹر سید غلام غوث صاحب کے مکان کے ملحق مہمان خانہ کا چو بارہ ہے۔حضور کے لئے کرسی لائی گئی تو فرمایا از بهر ما گری که ماموریم خدمت را افسوس میاں صاحب موصوف طباعت کتابت کے دوران میں ۵۱-۱۱-۱ کو ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔انا اللہ وانا الیه راجعون۔