اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 97 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 97

96 ۱۸۹۷ء کو ایک اشتہار بعنوان ” ایک ضروری فرض کی تبلیغ “ شائع فرمایا۔اس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں کہ : سو جس کو علم اور معرفت عطا کی گئی ہے۔اس کا فرض ہے جو ان تمام اہل مذاہب کو قابلِ رحم تصور کر کے سچائی کے دلائل ان کے سامنے رکھے اور ضلالت کے گڑھے سے ان کو نکالئے اور خدا سے بھی دعاء کرے کہ یہ لوگ ان مہلک بیماریوں سے شفا پاویں۔اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بچوں کی تعلیم کے ذریعہ سے اسلامی روشنی کو ملک میں پھیلاؤں۔ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اس طوفان ضلالت میں اسلامی ذریت کو غیر مذاہب کے وساوس سے بچانے کے لئے اس ارادہ میں میری مدد کرے۔سو میں مناسب دیکھتا ہوں کہ بالفعل قادیان میں اس کا مڈل سکول قائم کیا جائے۔جنوری ۱۸۹۸ء کو پرائمری مدرسہ کا اجراء ہوا اور اسی سال مڈل کی جماعتیں کھولی گئیں۔اس سلسلہ میں مکرم مفتی محمد صادق صاحب بیان فرماتے ہیں کہ : ”سب سے پہلے جب کہ مدرسہ کی بنیاد باندھی گئی اور پرائمری تک مدرسہ کھولا گیا' اس وقت شیخ یعقوب علی صاحب ہیڈ ماسٹر مقرر کئے گئے تھے۔مگر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد مدرسہ مڈل تک ہو گیا۔تو شیخ یعقوب علی صاحب ناظم پرائمری مقرر ہوئے۔اور مڈل کے ہیڈ ماسٹر عارضی طور پر ہمارے مخلص دوست مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم و مغفور مقرر ہوئے تھے۔جنہوں نے آنریری طور پر مدرسہ میں قریب دوماہ کے کام کیا تھا۔ان ایام میں یہ مرحوم بھائی بی۔اے کلاس گورنمنٹ کالج میں پڑھتے تھے اور رخصت گرما کی تقریب پر قادیان آئے ہوئے تھے۔مرزا صاحب مرحوم کا حضرت اقدس مسیح موعود سے عاشقانہ تعلق تھا۔ان کا سینہ اخلاص اور محبت سے پُر تھا اور ان کے اخلاق حسنہ دوسروں کے واسطے راہ ہدایت کا موجب ہوا کرتے تھے۔وہ چھوٹی ہی عمر میں اس جہان فانی کو چھوڑ کر اپنے خدا سے جاملے۔اللہ تعالیٰ اُن کو غریق رحمت کرے۔“ مدرسہ تعلیم الاسلام میں لڑکوں کو تحصیل علم کا شوق دلانے کے لئے ایک دفعہ میں روپے بطور انعام تقسیم کئے گئے اور اگلے سال ۱۸۹۸ء میں اس کے لئے فنڈ قائم کیا گیا۔جس میں مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم نے بھی دور و پے چندہ دیا۔۱۸۔اس وقت کی اتنی قلیل رقم کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اس فنڈ میں کل تینتیس