اصحاب احمد (جلد 1) — Page 98
97 روپے جمع ہوئے، جس کا بڑی خوشی سے اعلان کیا گیا، اور جن کے نام درج ہیں انہوں نے ایک روپیہ سے پانچ روپیہ تک چندہ دیا۔اور اسی جگہ تعمیر بورڈنگ کے فنڈ میں تر اسی روپے دینے والوں کے اسماء درج کئے گئے ہیں۔مرزا ایوب بیگ صاحب کی قادیان میں مصروفیات : قادیان میں مرزا صاحب مرحوم حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ المسیح الاول) رضی اللہ عنہ کے درس قرآن میں شامل ہوتے تھے۔اس طرح آپ نے قریباً سارے قرآن مجید کی تفسیر پر عبور حاصل کر لیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام موسم گرما میں جب ڈیوڑھی کے باہر مسقف کو چہ میں آرام کرتے تو آپ پاؤں اور بدن دا ہتے اور کبھی نیند آجاتی تو چار پائی پر حضوڑ کے ساتھ ہی سو جاتے۔بار ہا آپ نے حضور کی کمر کو بوسہ دیا اور اُن کی عادت تھی کہ بوسہ دیتے اور جسم دا بتے وقت تفرع کے ساتھ اپنے لئے دعا بھی کرتے تھے۔آپ حضور کے پرانے کپڑے اور بال تبر کا اپنے پاس رکھتے اور حضور کے لئے نئی رومی ٹوپی لاتے اور پرانی خود لے لیتے۔مجلس میں حضور کے بہت زیادہ قریب بیٹھتے اور ٹکٹکی لگا کر چہرہ مبارک کو دیکھتے اور پاؤں یا باز و یا کمر وغیرہ دباتے اور درود واستغفار پڑھتے رہتے۔حضور کوئی تقریر تقویٰ و طہارت کے متعلق فرماتے تو آپ کا پیراہن آنسوؤں سے تر ہو جا تا تھا۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ جسم دباتے دباتے مرزا صاحب موصوف حضور کے شانہ پر سر رکھ کر روتے رہتے، لیکن حضور اس وجہ سے کبھی کشیدہ خاطر نہ ہوتے اور دبانے سے منع نہ فرماتے۔دار اسی کی پاسبانی: مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی درویش بیان کرتے ہیں کہ دار اسی " کا با قاعدہ پہرہ پڑت لیکھرام کے قتل (۲ مارچ ۱۸۷ء) کے جلد بعد شروع ہوگیا تھا اور مرزا ایوب بیگ صاحب جب قادیان آتے تو دار مسیح" کا پہرہ دیا کرتے۔ہم پہرہ کے وقت مسجد مبارک سے قصر خلافت کو جانے والی گلی سے گذر کر حد یہ چوک تک جاتے اور وہاں سے بیت حضرت مولوی صاحب (خلیفۃ اسح الاول ) رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوتے ہوئے پھر مسجد مبارک تک آتے۔مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی درویش بھی مرزا ایوب بیگ صاحب موصوف کے ہمراہ دارامسیح کا پہرہ دینے کا ذکر کرتے ہیں۔* * پہرہ کی ابتداء کے متعلق مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب موصوف کا جامع مضمون الحکم جلد ۴۲ نمبر ۱۵ تا مبر۱۸ بہت اہم ہے اور مطالعہ کے لائق ہے۔(مؤلف)