اصحاب احمد (جلد 1) — Page 75
74 صبح ہوئی تو ان (یعنی آتھم۔ناقل ) کے دوستوں نے ان کے گلے میں ہار پہنا کر اور ان کو گاڑی میں بٹھا کر سارے شہر میں خوشی کا جلوس پھرایا۔اور اس دن لوگوں میں شور تھا کہ مرزے کی پیشگوئی جھوٹی گئی۔۵۔“ ان حالات میں جس شخص کا ایمان متزلزل نہ ہوا۔اس کی استقامت کے متعلق کسے شبہ ہوسکتا ہے۔ملک مولا بخش صاحب رضی اللہ عنہ نے اُن کے متعلق مجھ سے تحریر بیان کیا کہ : مباحثہ آتھم میں وہ شریک تھے۔اور پیشگوئی کی صداقت پر انہوں نے شرط مقرر کی تھی۔لوگوں کا اس وقت خیال تھا کہ آتھم یا تو علانیہ مسلمان ہو جائے گا یا فوت ہو جائے گا۔رجوع والی شرط لوگوں کے ذہن میں نہ تھی۔جب میعاد مقررہ کے اندر نہ آ قم علانیہ مسلمان ہوا۔نہ فوت ہوا۔تو ان کو لوگوں نے آکر تنگ کیا۔وہ اپنے مکان میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے۔اور ان کو کہا کہ جس نے پیشگوئی کی ہے اس کا جواب آلینے دو۔چنانچہ جب حضرت صاحب کا اشتہار آیا کہ آتھم نے رجوع سے فائدہ اٹھایا ہے۔اور اس کے علاوہ حضور نے قسم کھانے پر آمادہ کرنے کے لئے اشتہار پر اشتہار انعامی دیا۔تو پھر یہ بھی خوب زور سے لوگوں کو کہتے کہ اب اس کو لا و قسم کھائے اور قدرت حق کا تماشہ دیکھے۔“ * اخلاق حسنه آپ دینی کاموں میں پیش پیش رہنے والے اور غیرت دکھانے والے تھے۔اور دین کی خاطر ہر مشقت خوشی سے اپنے ذمہ لیتے تھے۔تہجد ہمیشہ باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔اور دعاؤں میں بہت شغف رکھتے تھے۔بلکہ دوسروں کے لئے بھی بہت دعا ئیں کیا کرتے تھے۔اگر چہ آپ زیادہ صاحب علم نہ تھے۔مگر آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔اور اکثر تبلیغ کیا کرتے تھے۔اور اکثر اس غرض سے رشتہ داروں اور دوستوں کو دعوت طعام دیا کرتے تھے۔اور اس کے لئے اگر ان کے پاس روپیہ نہ ہوتا تو قرض بھی لے لیا کرتے تھے۔آپ کے اندر ایک نمایاں وصف یہ بھی تھا کہ جب آپ کے پاس پیسے ہوتے۔تو آپ ایسے قرضے بھی ادا کر دیتے جوزائد المیعاد ہوتے اور جن کو کوئی عدالت بھی نہیں دلا سکتی تھی۔اور کبھی یہ خیال نہ کرتے تھے کہ اب یہ قرض زائد المیعاد ہے۔قانونا بھی مجھے سے وصول نہیں ہوسکتا۔اس لئے ادائیگی کی کیا ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ریویو آف ریلینجز کا خریدار بنا بھی ایک قومی اعانت تصور ہوتا تھا۔حضور کی خواہش بھی تھی کہ ریویو کی اشاعت اس روایت میں خطوط وحدانی کے اندر کے الفاظ خاکسار کی طرف سے ہیں۔(مؤلف)