اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 76 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 76

75 زیادہ بڑھ جائے چنانچہ مرقوم ہے: ” یہ امراب چنداں وضاحت طلب نہیں رہا کہ ہمارے پیارے امام حضرت اقدس امام صادق علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی تعمیل میں جماعت احمدیہ کے ہر طبقہ کے احباب نے حسب استطاعت خود مالی و جانی خدمت کی بجا آوری میں سر مو دریغ نہیں رکھا ہر طرح سے کوشش کر کے اپنی اخلاص مندی و سرگرمی و ہمدردی کا ایک قابل قدرنمونہ دکھلایا ہے اور اب بھی دکھلا رہے ہیں۔اپنی طاقت و توفیق کے موافق بعض خود خریدار رسالہ بنے۔بعض نے خود خریدار بننے کے علاوہ اور خریدار پیدا کئے۔بعضوں نے اپنے خرچ سے اوروں کے نام رسالے مفت جاری کرائے یا بغرض اشاعت ممالک غیر میں مفت بھجوائے۔غرضیکہ اپنی جانب سے ہر طرح کی سعی کی جو علی قدر مراتب سب شکریہ کے مستحق ہیں۔چنانچہ اس عبارت کے بعد بہت سے احباب کے نام اور چندے درج ہیں۔ان میں ۴۶۳۔اللہ بخش صاحب علاقہ بند عا مرقوم ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ریویواردو کے ابتدائی خریداروں میں سے تھے۔کے مرض الموت اور وفات: آپ جگر ماؤف ہونے سے امرتسر میں بیمار ہوئے۔ملک مولا بخش صاحب آپ کو اپنے پاس گورداسپور لے گئے اور خود ہومیو پیتھک علاج کیا۔جس سے اس قدر صحت یاب ہو گئے کہ سودا سلف بازار سے لے آتے تھے۔لیکن یہ خیال کر کے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ علاج کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔اور اپنے علاج پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔میاں صاحب کی خواہش کے مطابق ایک حکیم کو بلایا گیا۔اس کی دی ہوئی دوائی کی گولی کھانے لگے تو نہ معلوم آپ کو کیسے احساس ہو گیا۔کہنے لگے کہ یہ موت کی گولی ہے اس گولی میں ایلوا تھا۔اس سے خونی پیچش شروع ہوگئی۔جب زیادہ کمزور ہو گئے تو ملک صاحب کو بلا کر مصافحہ کیا اور کہا کہ آپ میرے ساتھ عہد کریں کہ میرے لئے دعا کرتے رہیں گے۔ہم انشاء اللہ آپ کے لئے دعائیں کریں گے۔آپ چھیاسٹھ سال کی عمر میں آکر ۱۹۲۰ء میں فوت ہوئے۔ملک صاحب نے جنازہ پڑھایا اور آپ کی خواہش کے مطابق گورداسپور کے قبرستان میں جہاں ملک صاحب کے بعض بچوں کی قبریں تھیں دفن کیا گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔قبراب معروف نہیں۔آپ کی اہلی زندگی : بابا محمد چٹو صاحب نے آپ کی شادی اپنی بیوہ بہو محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ بنت غلام رسول صاحب بٹ کشمیری رفوگر ساکن کڑہ باگھ سنگھ امرتسر سے کر دی تھی۔