اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 69 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 69

68 حضور کی مشرح اور مدلل تردید ہی اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ اس زمانہ میں کس قسم کی مخالفت ہو رہی تھی۔اور وہ احباب جو باوجود ان حالات کے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شرکت کے لئے قادیان آئے یقیناً مخالفت کے اس طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے جلسہ کے لئے آئے۔اور بعد ازاں بھی جو ایمان اور اخلاص پر قائم رہے ان کا مقام بہت ہی بلند ہے۔ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ تحریر فرمایا تین سو تیرہ صحابہ کے ذکر میں آگے آجائے گا۔ان مخلصین میں ۲۵۲ نمبر پر آپ کا نام یوں درج ہے۔”میاں رحیم اللہ صاحب لاہور لنگے منڈی“ ہے آپ تین سو تیرہ صحابہ میں سے تھے مولوی صاحب تین سو تیرہ صحابہ میں سے تھے۔اس قابل فخر گروہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وو ایک اور پیشگوئی کا پورا ہونا چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا، اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشگوئی آج پوری ہو گئی۔یہ تو ظاہر ہے کہ پہلے اس سے اس امت مرحومہ میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا کہ جو مہدویت کا مدعی ہوتا اور اس کے وقت میں چھاپہ خانہ بھی ہوتا اور اس کے پاس ایک کتاب بھی ہوتی جس میں تین سو تیرہ نام لکھے ہوئے ہوتے۔اور ظاہر ہے کہ اگر یہ کام انسان کے اختیار میں ہوتا تو اس سے پہلے کئی جھوٹے اپنے تئیں اس کا مصداق بنا سکتے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ خدا کی پیشگوئیوں میں ایسی فوق العادت شرطیں ہوتی ہیں کہ کوئی جھوٹا ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا اور اس کو وہ سامان اور اسباب عطا نہیں کئے جاتے جو سچے کو عطا کئے جاتے ہیں۔شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہرالاسرار میں جو ۸۴۰ء میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں : در اربعین آمده است که خروج مهدی از قریه کدعه باشد ـ قال النبي صلى الله عليه وسلم يخرج المهدى من قرية يقال لها كد عه و يصدق