اصحاب احمد (جلد 1) — Page 70
69 الله تعالى ويجمع اصحابه من اقصى البلاد على عدة اهل بدر بثلاث مائة و ثلاثة عشر رجلاً و معه صحيفة مختومة اى مطبوعة فيها عدد اصحابه باسمائهم وبلادهم و خلالهم یعنی مہدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے ( یہ نام دراصل قادیان کے نام کو مغرب کیا ہوا ہے ) اور پھر فرمایا کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دُور دُور سے اس کے دوست جمع کرے گا جن کا شمار اہل بدر کے شمار سے برابر ہوگا۔یعنی تین سو تیرہ ہوں گے۔اور ان کے نام بقید مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعوی کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہو جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں۔لیکن میں پہلے اس سے بھی آئینہ کمالات اسلام میں تین سو تیرہ ۳۱۳ نام درج کر چکا ہوں اور اب دوبارہ اتمام حجت کے لئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں تا ہر ایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیشگوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی اور بموجب منشاء حدیث کے یہ بیان کر دینا پہلے سے ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق و صفا ر کھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔بعض بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضاء کی راہوں میں ثابت قدم کرے۔“ سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ تین سو تیرہ کی فہرست میں سترہ ایسے بزرگ شامل کئے گئے ہیں کہ باوجود وفات یافتہ ہونے کے ان کے اسماء اس پاک گروہ میں درج کئے گئے ہیں۔مزید یہ کہ مولوی صاحب کی طرح ایسے احباب معدودے چند ہی ہیں کہ جن کے نام دونوں فہرستوں میں مرقوم ہیں۔آپ کے متعلق لکھا ہے: اہلی زندگی: ۱۳۲۔مولوی رحیم اللہ صاحب مرحوم لاہور مکرم قاضی محبوب عالم صاحب مالک راجپوت سائیکل ورکس، نیلہ گنبد لا ہور صحابی ہیں اور اسی زمانہ سے لاہور میں اقامت رکھتے ہیں۔آپ سے راقم نے مولوی صاحب کی اہلی زندگی، سن وفات وغیرہ کے متعلق استفسار کیا تھا۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ مولوی رحیم اللہ صاحب کے متعلق مجھے اسی قدرشنید ہے کہ وہ چار بیویاں رکھتے تھے۔یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کی اولاد تھی یا نہیں۔مسجد کے حجرہ میں رہا کرتے تھے جو میاں معراج الدین