اصحاب احمد (جلد 1) — Page 61
61 پکے رہیں گے؟ ان کو اس وقت دو خیال تھے کہ شاید ان کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کو یہ رشتہ کرنے میں تامل ہو۔ایک تو یہ کہ اس سے قبل ان کے خاندان کی کوئی لڑکی کسی غیر سید کے ساتھ نہ بیاہی گئی تھی۔اور دوسرے یہ کہ مبارک احمد ایک مہلک بیماری میں مبتلا ء تھا اور ڈاکٹر صاحب مرحوم خود اس کا علاج کرتے تھے اور گھر میں جاکر ذکر کیا کرتے تھے کہ اس کی حالت نازک ہے اور اس وجہ سے وہ خیال کریں گے کہ یہ شادی نناوے فیصدی خطرہ سے پر ہے اور اس سے لڑکی کے ماتھے پر جلد ہی بیوگی کا ٹیکہ لگنے کا خوف ہے۔اور ان باتوں کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے گھر والوں کو یہ خیال تھا کہ ایسا نہ ہوڈاکٹر صاحب کمزوری دکھائیں اور ان کا ایمان ضائع ہو جائے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے۔ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ استقامت عطا کرے گا۔اس پر والدہ مریم بیگم مرحومہ نے ان کو بات سنائی اور بتایا کہ اس طرح میں اور پر گئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مریم کی شادی مبارک احمد سے کر دیں۔یہ بات سُن کر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اچھی بات ہے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ پسند ہے تو ہمیں اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ان کا یہ جواب سن کر مریم بیگم مرحومہ کی والدہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو ہمیشہ بڑھاتا چلا جائے رو پڑیں اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسورواں ہو گئے۔اس پر ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ کیا تم کو یہ تعلق پسند نہیں؟ انہوں نے کہا مجھے پسند ہے۔بات یہ ہے کہ جب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نکاح کا ارشاد فرمایا تھا میرا دل دھڑک رہا تھا اور میں ڈرتی تھی کہ کہیں آپ کا ایمان ضائع نہ ہو جائے۔اور اب آپ کا یہ جواب سُن کر میں خوشی سے اپنے آنسو روک نہیں سکی۔چنانچہ یہ شادی ہوگئی اور کچھ دنوں کے بعد وہ لڑکی بیوہ بھی ہوگئی۔اللہ تعالیٰ کسی کے اخلاص کو ضائع نہیں کرتا آخر وہی لڑکی پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں آئی اور خلیفہ وقت سے بیاہی گئی اور باوجود شدید بیمار رہنے کے اللہ تعالیٰ نے اسے اس وقت تک مرنے نہیں دیا جب تک کہ اس نے اپنی مشیت کے ماتحت اس پیشگوئی کے میرے وجود پر پورا ہونے کا انکشاف نہ فرما دیا جو اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی اور اسے ان خواتین مبارکہ میں شامل نہ کر لیا