اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 60 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 60

60 جائے۔اور مرغیاں ذبح کر کے کھالی جائیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبارک احمد بہت پیارا تھا۔ح19ء میں وہ بیمار ہو گیا اور اس کو شدید قسم کے ٹائیفائیڈ کا حملہ ہوا۔اس وقت دو ڈاکٹر قادیان میں موجود تھے۔ایک ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور تھے۔ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ ہمیں باہر نوکری کرنے کے بجائے قادیان میں رہ کر خدمت کرنی چاہئے اور اس رنگ میں شاید وہ پہلے احمدی تھے جو ملا زمت چھوڑ کر یہاں آگئے تھے۔ایک تو وہ تھے اور دوسرے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب تھے جو رُخصت پر یہاں آئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ مل کر مبارک احمد مرحوم کا علاج کیا کرتے تھے۔اس کی بیماری کے ایام میں کسی شخص نے خواب دیکھا کہ مبارک احمد کی شادی ہو رہی ہے۔اور معتبرین نے لکھا ہے کہ اگر شادی غیر معلوم عورت سے ہو تو اس کی تعبیر موت ہوتی ہے، مگر بعض معتبرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ایسے خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ یہ تعبیر ٹل جاتی ہے۔پس جب خواب دیکھنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا یہ خواب سنایا، تو آپ نے فرمایا کہ معبرین نے لکھا ہے کہ اس کی تعبیر تو موت ہے مگر اسے ظاہری رنگ میں پورا کر دینے کی صورت میں بعض دفعہ یہ تعبیر ٹل جاتی ہے۔اس لئے آؤ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔گویا وہ بچہ جسے شادی بیاہ کا کچھ بھی علم نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی شادی کا فکر ہوا۔جس وقت حضور علیہ السلام یہ باتیں کر رہے تھے تو اتفاقا ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب کے گھر سے جو یہاں بطور مہمان آئے ہوئے تھے صحن میں نظر آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایا اور فرمایا ہمارا منشاء ہے کہ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔آپ کی لڑکی مریم ہے آپ اگر پسند کریں تو اس سے مبارک احمد کی شادی کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ حضور مجھے کوئی عذر نہیں لیکن اگر حضور کچھ مہلت دیں تو ڈاکٹر صاحب سے بھی پوچھ لوں۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم اور ان کے اہل و عیال گول کمرہ میں رہتے تھے۔وہ نیچے گئیں اور جیسا کہ بعد کے واقعات معلوم ہوئے، وہ یہ ہیں کہ ڈاکٹر صاحب شاید وہاں نہ تھے کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا تو وہ آگئے۔جب وہ آئے تو انہوں نے اس رنگ میں ان سے بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ