اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 48 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 48

48 صبر اور استقلال کی تعلیم دینے والے اور رضاء بالقضاء اور قیام فی ما اقام اللہ کے لمبے لمبے وعظ کہنے والے اور درس دینے والے دیکھے ہیں۔لیکن جب وہ خدا تعالیٰ کے کسی ابتلاء اور امتحان کے نیچے آئے ہیں تو انہوں نے وہ بُزدلی اور کم ہمتی دکھائی ہے۔جس کی حد نہیں۔فی الحقیقت کامل ایمان اور خدا پرستی کے کمال کا ایک ہی امتحان ہے کہ انسان مصائب اور مسر میں قدم پیچھے نہ ہٹائے بلکہ آگے بڑھائے۔اب یہ چشم دید واقعہ ہے اس کا ایک یا دو گواہ نہیں بلکہ صدہا لوگ ہیں جو آج کل اس واقعہ ناگزیر کی تقریب کی وجہ سے اور حسب معمول یہاں آرہے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ خدا کا معطر کیا ہو ا مسیح موعود کس جلال اور شوکت کے ساتھ اس واقعہ صاحبزادہ صاحب کو بیان کرتا ہے۔عام طور پر اگر غور کیا جاوے تو وہ انسان جوستر برس کے قریب ہو اور جس کا ہونہار نیک سعادتمند بچہ فوت ہو جاوے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔مگر یہاں معاملہ ہی الگ ہے۔حضرت مسیح موعود اس واقعہ کو ایسے جوش اور مزے سے بیان کرتے ہیں کہ الفاظ نہیں ملتے جو اس کیفیت کو ظاہر کیا جاوے۔حضرت مسیح موعود خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں پوری ہو گئیں۔حضرت مسیح موعود خوش ہیں کہ خدا تعالیٰ کے امتحان میں پورے اترے۔سب سے بڑھ کر جوامر مسرت کا موجب ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشی کا اظہار فرمایا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود پر یہ وحی ہوئی ہے کہ خُدا خوش ہو گیا ”انسانی زندگی کی اگر کوئی غرض اور غایت ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ خدا اس سے خوش ہو جاوے اور وہ خدا سے راضی ہو جاوے۔اور اس طرح پر رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ کا نمونہ کامل بن جاوے۔پس یہ کس قدرخوشی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندے سے خوش ہو جانے کا اظہار کر دیا۔یہ چھوٹی سی بات نہیں، یہی وہ بات ہے جس کیلئے نبیوں کی بعثت ہوتی ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جو سلوک کی تمام منزلوں کا انتہائی مقام کہنا چاہئے۔پس آج کل دار الامان میں خدا تعالیٰ کا نزول ہورہا ہے۔ایک نئی شان میں جن لوگوں کو آج کل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملا ہے۔وہ بڑے ہی خوش قسمت ہیں۔کیونکہ وہ ایک ایسا عملی سبق پڑھ رہے ہیں۔جس کو تقریر یا تحریر کی صورت میں ادا کرنا مشکل ہے۔۲۹‘