اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 47 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 47

47 اور افسوس کی حالت میں ہوں گے۔لیکن جب ہم مسجد مبارک میں حضور سے ملے تو وہاں رنگ ہی اور تھا۔نہ غم نہ افسوس سب کام حسب معمول ہورہے تھے مجلس کا وہی رنگ تھا اور جب صاحبزادہ صاحب مرحوم کا ذکر حضرت اقدس نے کیا، تو یہی فرمایا کہ میرے مولیٰ نے مجھے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ یہ لڑکا یا تو بہت با خدا ہوگا یا جلدی فوت ہو جاوے گا چنانچہ یہ معنی پہلے شائع بھی ہو چکے تھے ) ہم کو تو خوشی ہے کہ ہمارے مولیٰ کی بات پوری ہوئی۔ایک بیٹا کیا اگر ہزار بیٹا ہو اور وہ مرجاوے لیکن میرے مولیٰ کی بات پوری ہو کہا یا یہ کہا کہ میرا مولیٰ راضی ہو جاوے تو ہم کو ہزار خوشی ہے یہ حالت دیکھ کر ہم میں سے کسی کو جرات نہ ہوئی کہ افسوس کا لفظ منہ پر لاوے۔اور میں تو اپنے دل میں بہت شرمندہ تھا کہ حضرت اقدس کا بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے اور ہم بھی اس کے دعویدار ہیں۔ہیں تفاوت را ه از کجاست تا بگجا !! اس واقعہ کا اثر عمر بھر میرے دل پر رہا۔اور جب بعد میں میرے کئی بچے فوت ہوئے تو حضور کا یہ اسوۂ حسنہ بہت حد تک میری رہبری کا موجب ہوا۔“ حضور کا صبر کا نمونہ : دارالامان میں آج کل کے زیر عنوان محترم مدیر الحکم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صبر ورضاء بالقضاء کے متعلق تحریر کیا: دار الامان خدا تعالیٰ کے فیوضات و برکات کا مبط ہے اور كل يوم هو في شان پر نیا دن نئی برکات لے کر آتا ہے۔خدا کا برگزیدہ بندہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کی عجیب و غریب تجلیات کا مظہر بنا ہوا ہے۔صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے انتقال نے آپ کی سچائی خدا تعالیٰ کی ہستی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کونئی زندگی عطا فرمائی ہے اور یہ نکتہ حل ہو گیا کہ اسلام کا زندہ ہونا ہم سے ایک فدیہ چاہتا ہے۔صاحبزادہ صاحب کے انتقال کے متعلق خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر الحکم کی پچھلی اشاعت میں لکھا جاچکا ہے اس کے اعادہ کی حاجت نہیں۔مگر یہاں مجھے ایک خاص بات کا ذکر کرنا ہے جو خصوصیت سے ایمان کو زندہ کرنے والی بات ہے اور جس کی نظیر دنیا میں بجز انبیاء علیہم السلام کے گروہ کے نہیں مل سکتی۔وہ کیا ہے؟ حضرت مسیح موعود کے رضاء بالقضاء کا نمونہ دنیا میں