اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 45 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 45

45 روشن علی صاحب نے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب مبارک احمد کو دفن کرنے کے لئے گئے تو ابھی قبر کی تیاری میں کچھ دیر تھی۔اس لئے حضرت صاحب قبر سے کچھ فاصلہ پر باغ میں بیٹھ گئے۔اصحاب بھی اردگرد بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر خاموشی کے بعد حضرت صاحب نے مولوی صاحب خلیفہ اول کو مخاطب کر کے فرمایا۔مولوی صاحب ایسے خوشی کے دن بھی انسان کو بہت کم میسر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر فرماتے ہیں: " حضرت مسیح موعود کو اپنے بچوں کے ساتھ بہت محبت تھی۔اور مبارک احمد سب سے چھوٹا بچہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کی نسبت طبعا محبت و شفقت کا زیادہ حصہ پاتا تھا، اس لئے اس کی وفات پر آپ کو بہت صدمہ ہوا۔مگر چونکہ آپ کا اصل تعلق خدا سے تھا اس لئے آپ نے اس صدمہ میں صبر اور رضا کا کامل نمونہ دکھایا۔اور دوسروں کو بھی صبر و رضاء کی نصیحت فرمائی، حتی کہ جو لوگ اس موقعہ پر افسوس اور ہمدردی کے اظہار کے لئے آئے تھے ان کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت مسیح موعود ہمارے ساتھ اس رنگ میں گفتگو فرماتے تھے کہ گویا صدمہ ہمیں پہنچا ہے اور آپ تسلی دینے والے ہیں۔اس موقعہ پر آپ نے مبارک احمد کی قبر محمد : نصلی علی رسولہ الکریم بقيه حاشيه بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ عزیز مبارک احمد ۶ استمبر عاء بقضاء الہی فوت ہو گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون ہم اپنے رب کریم کی قضاء وقدر پر صبر کرتے ہیں تم بھی صبر کرو۔ہم سب ان ہی کی امانتیں ہیں اور ہر ایک کام اس کا حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔والسلام مرزا غلام احمد نیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کو ایک مکتوب میں تحریر فرمایا: دو تین ماہ کی مدت ہوئی کہ میرالڑ کا مبارک احمد جو اس کی والدہ کو بہت ہی پیارا تھا، تپ سے فوت ہوا ہے۔اس کے انتقال کے قریب وقت میں میں نے ان کو کہہ دیا کہ دیکھو اب یہ لڑکا مرنے والا ہے۔اور ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو مارنے والا ہے وہ مرنے والے سے ہمیں زیادہ پیارا ہے۔اور یہی طریق ایمان کامل کا ہے کہ صرف یہ كون إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون خدا کی امانت تھی خدا نے لے لی۔سوانہوں نے لڑکے کی موت کے وقت ایسا ہی کہا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اگر کوئی مر جائے تو یہ غیر معمولی بات نہیں۔ہم بھی تو ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔خدا کے نزدیک انہیں کو مراتب ملتے ہیں، جو اس چند روزہ زندگی میں تلخی دیکھتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ اگر خوش ہوتا ہے تو بدل عطا کرتا ہے۔ہرگز ہرگز طریق عوام نہیں اختیار کرنا چاہئے۔خدا جس سے پیار کرتا ہے اس کو کوئی مصیبت بھی بھیجتا ہے۔سونہایت استقلال سے خدا تعالی پر توکل کرو اور اس سے نومیدمت ہو۔۲۶ نقل مطابق اصل