اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 260 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 260

259 سید محمد علی شاہ صاحب مرحوم ساکن قادیان کے مکان کے بالائی حصہ میں جہاں پہلے الحکم کا دفتر ہوتا تھا عبدالکریم صاحب مغفور کی رہائش کے لئے تجویز ہو ا۔اور ان کو وہاں منتقل کر دیا گیا۔اخویم مکرم سید ولی اللہ شاہ صاحب ( حال ناظر دعوت و تبلیغ ) اور خاکسار کو کہ ہم دونوں نے برضاء خود خدمات پیش کی تھیں۔پہرہ پر لگایا گیا۔” جب ان کو باؤلے کتے نے کاٹا ان کی عمر ۱۷۔۱۸ سال کی ہوگی۔جب مرحوم کو ہلکا وہو ا تو ذراسی آہٹ سے چونک پڑتے۔سانس مشکل سے آتا تھا۔اور پانی سے ڈرتے تھے اور ذرا سے شور سے سخت مضطرب ہو جاتے تھے۔* محترم بھائی محمود احمد صاحب موصوف ( سابق ما لک احمد یہ میڈیکل ہال قادیان ) سرگودھا سے تحریر کرتے ہیں کہ عبدالکریم (صاحب) کا بوقت دور و دیوانگی میں بھی تیماردار ہا ہوں۔“ حضرت مسیح موعود کی شفقت : اس دور افتادہ علاقہ کے طالب علم کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفتہ اسی الاول) بلکہ تمام احمدیوں کے قلوب میں جو اضطراب اور درد کی کیفیت پیدا ہوئی وہ كل مومن اخوة کا ایک ایمان افز انظارہ تھا۔اور یہ حقیقت ہے کہ ایسے نظارے سوائے مومنوں کی اس جماعت کے آپ کو اس زمانہ میں اور کہیں نہیں ملیں گے۔موقر اخبار الحکم رقمطراز ہے: ۲ فروری۔آج نماز ظہر کے بعد مدرسہ تعلیم الاسلام کے ایک طالب علم کے متعلق جس کو کچھ عرصہ سے سگ دیوانہ یعنی ہلکے کتے نے کاٹا تھا معلوم ہو ا کہ اُس میں اس بیماری کے آثار ظاہر ہو گئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو خبر کی گئی تو آپ بڑے اضطراب سے دعا و دوا کرنے لگے اور بار بار اس کی خبر گیری فرماتے تھے۔* نماز عصر کے بعد حضرت حکیم الامتہ جبکہ بڑی مسجد میں قرآن کریم کا درس فرما رہے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کو دوائی اُس طالب علم کے لئے بھیجی کہ یہ دوائی اُس کو کھلاؤ۔حضرت حکیم الامتہ نے حاضرین کو فرمایا کہ دیکھو خدا کے مامور میں کس قدر خلقت اللہ پر شفقت ہے۔الغرض ہر ایک احمدی فرد میں اُس طالب علم کے لئے ایک درد تھا خواجہ صاحب کے تمام اقتباسات آپ کے مضمون بعنوان ” عبدالکریم صاحب مرحوم آف یاد گیر کا ذکر مندرجہ الفضل جلد ۲۱ نمبر ۰۳ ابابت ۲۷ فروری ۱۹۳۴ء سے ماخوذ ہیں۔خواجہ صاحب ان دنوں بمقام کرناہ ( کشمیر ) میں رینج آفیسر تھے تقسیم کے بعد کشمیر کے پراونشل امیر رہے۔افسوس کہ بتاریخ ۸ دسمبر ۱۹۵۰ء کو وفات پاچکے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔(مؤلف)