اصحاب احمد (جلد 1) — Page 261
260 اور دعا کرتے تھے۔حضرت حکیم الامۃ کے اُس طالب علم کے متعلق یہ لفظ ہیں اُس بچے کے لئے مجھے سخت اضطراب ہے۔مجھے ایسا دل میں اس کے لئے درد ہے کہ میں تم کو سبق نہیں پڑھا سکتا۔حضرت اقدس نے فوراً مجھے اندر سے کہلا بھیجا ہے کہ یہ دوا اس کو پلاؤ۔پھر اب اور دوائی اس کے لئے بھیجی ہے۔دیکھو آپ کس قدر مخلوق اللہ پر شفقت رکھتے ہیں۔اختتام درس کے بعد مولوی صاحب نے اس کے لئے فرمایا کہ سب اس کی صحت کے لئے دعا کرو۔حاضرین نے دردِ دل سے دعا کی۔خورد بزرگ کی دعا بھی ایسی تھی جیسا کہ ایک انسان کے کسی عضو کو زخم ہو تو سارے جسم میں بے قراری و بے آرامی ہو جاتی ہے۔ایسا ہی ایک طالب علم کی وجہ سے سب میں ایک درد پیدا ہو گیا۔گویا ایسا معلوم ہوا کہ سب میں ایک روح اور جدا جدا جسم ہیں۔پھر دارالامان کا ہفتہ کے زیر عنوان مرقوم ہے کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کے حیدرآبادی طالب علم جو بعارضہ Hydro Phobia بیمار ہو گیا تھا کی حالت اب اچھی ہے۔۲ نشان الہی کے متعلق حضور کا بیان : عبدالکریم صاحب کی بیماری اور اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے شفاء یابی ایک عظیم الشان نشانِ الہی تھا اور احیاء موتی کا رنگ رکھتا تھا چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں:۔(۵) پانچواں نشان جو ان دنوں میں ظاہر ہوا وہ ایک دعا کا قبول ہونا ہے۔جو درحقیقت احیائے موتی میں داخل ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ عبدالکریم نام ولد عبدالرحمن ساکن حیدر آباد دکن ہمارے مدرسہ میں ایک لڑکا طالب العلم ہے۔قضاء قدر سے اس کو سگِ دیوانہ کاٹ گیا۔ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا۔چند روز تک اس کا کسولی میں علاج ہوتا رہا۔پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔تھوڑے دن گذرنے کے بعد اس میں وہ آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے جو دیوانہ کتے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اور پانی سے ڈرنے لگا۔اور خوفناک حالت پیدا ہو گئی۔تب اس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل سخت بے قرار ہوا اور دعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹہ کے بعد مر جائے گا نا چار اس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیج دی اور پوچھا گیا کہ اس حالت میں اس کا کوئی علاج بھی ہے۔اس طرف سے