اصحاب احمد (جلد 1) — Page 243
242 اس وقت حج کے لئے نام درج کرانے اور ٹکٹ خریدنے کے لئے ریاست حیدر آباد والوں کے لئے مقررہ معیاد میں سے صرف ایک دن باقی تھا۔تاروں کے ذریعہ انتظام مکمل ہوا۔قلت وقت کے باعث حضور کی ملاقات کے لئے نہ آسکے جس کا سارے سفر میں افسوس کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ واپسی پر پہلے قادیان جانا ہے پھر وطن جائینگے۔آپ ۱۹ / اکتوبر ۱۹۳۵ء کو اپنی اہلیہ محترمہ رسول بی بی صاحبہ اور اپنے داما دا خویم مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل وکیل کے ہمراہ روانہ ہوئے اس سارے سفر کے حالات وفات تک اخویم موصوف کی زبانی درج کئے جاتے ہیں: ورودیکه : مکہ مکرمہ میں ہم رباط حسین بی میں ٹھہرے جو خانہ کعبہ سے بالکل قریب ہے۔یہ رباط یعنی سرائے حیدر آباد دکن کی ایک معز ز عورت مسماۃ حسین بی نے بنائی ہے۔سیٹھ صاحب مکہ مکرمہ میں تشریف لے جانے کے بعد زائد از ایک مہینہ بہت اچھی صحت کی حالت میں وہاں ٹھہرے رہے۔لیکن چونکہ آپ دومنزلہ بنگلہ پر رہتے تھے جہاں سے بوجہ بڑھاپے کے چڑھنا اُترنا دشوار تھا اور زیادہ پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔اس لئے مکہ مکرمہ کی اصطلاح شہری (یعنی چار پائی پر بیٹھ کر خانہ کعبہ کو جایا کرتے تھے۔جہاں چار عرب بدوی آپ کو اُٹھا کر لے جاتے تھے۔مکہ مکرمہ میں کمزوروں کے لئے اس قسم کی سواری عام طور پر رائج ہے۔ویسے عربی ، یعنی ٹانگے بھی ہیں۔لیکن کم۔پھر ٹانگے مسجد حرام تک پہنچا سکتے ہیں مگر اندر نہیں جاسکتے۔اندر جانے کے بعد چونکہ طواف کرنا بوڑھوں کے لئے پیدل چل کر مشکل ہوتا ہے۔اس لئے شہری پر ہی ضعیف اور بوڑھے طواف کرتے ہیں۔سیٹھ صاحب نے بھی ہمیشہ ایسا ہی کیا۔البتہ سب سے پہلا طواف پیدل چلتے ہوئے کیا اور کامل اطمینان کی حالت میں حجر اسود کو بوسہ دیا۔اس وقت طواف کی جگہ زیادہ اثر دحام نہ تھا۔پھر آپ نے مقام ابراہیم اور مطاف کے دوسروں حصوں پر نفل پڑھے۔ملتزم سے چمٹ کر دعا کی خانہ کعبہ کے دروازے کے ساتھ ایک جگہ نماز کے لئے نشیبی حصہ میں بنائی گئی ہے وہاں بھی نماز پڑھی اور آب زمزم کئی مرتبہ پیتے رہے۔” صفا و مروہ میں شہری ہی پر آپ دوڑتے رہے۔بقیہ طواف جو آپ نے مکہ مکرمہ کے قیام کے دوران میں مختلف اوقات میں کئے وہ شہری ہی پر بیٹھ کر کئے۔بدوی عرب خود