اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 225 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 225

224 غرباء پروری: اللہ تعالیٰ نے آپ کو امارت و تمول بخشنے کے ساتھ ہی حد درجہ فیاض دل عطا کیا تھا۔آپ اپنے اسلامی نمونہ سے امیر وغریب کے امتیاز کو مٹاتے تھے۔غرباء یتامی اور بیوگان کی اپنے گھر میں عزیزوں کی طرح پرورش کرتے اور انہیں کبھی خادم خیال نہ کرتے۔صدقہ و خیرات بلا تمیز مذہب وملت کرتے۔کسی کے سوال کو ر ڈ کرنا جانتے ہی نہ تھے۔آپ نے جذامیوں (کوڑھیوں) کے ایک پورے خاندان کی ان سب کی وفات تک پرورش کی۔آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ غرباء ترقی کریں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔آپ نے کئی خاندانوں کو اپنی طرف سے روپیہ دیدیا تا کہ مال بنائیں اور منڈی میں بھیجیں اور آہستہ آہستہ رقم ادا کرتے اور ترقی کرتے جائیں۔چنانچہ اس طرح آپ نے کئی سو خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا۔جن میں سے کئی ایک کا کام آپ کے برابر ہے۔اگر آپ کے کارخانہ کے منتظم کسی وجہ سے کسی شخص کو کام سے الگ کر دیتے اور وہ آپ کے پاس شکایت لاتا اور آپ اس معاملہ میں دخل نہ دینا چاہتے تو اس کی بے روزگاری دور کرنے کے لئے کوئی اور راہ سوچتے۔یا اس کے لئے روز گار مہیا ہونے کے لئے دعا کرتے۔ایک دفعہ آپ نے یاد گیر کے تمام جولا ہوں کو جمع کر کے نصیحت کی کہ آئندہ تمہارا یہ کام نہ چل سکے گا۔اس لئے ابھی سے یہ کام ترک کر کے کوئی اور کام شروع کر دو۔چنانچہ خدا کا کرنا کیا ہو اکہ اس کے بعد ان کا کام بند ہو گیا۔جنہوں نے آپ کی نصیحت پر عمل کر کے کوئی اور کام شروع کر دیا تھا بہت فائدہ میں رہے۔اور دوسروں کو تکلیف اٹھانا پڑی۔آپ نے سینکڑوں مسلم اور غیر مسلم لوگوں کی اپنے خرچ پر شادیاں کرائیں۔سینکڑوں مقروضوں نے آپ کو روپیہ واپس نہیں کیا۔کبھی کسی سے قرض کی واپسی کا مطالبہ نہ کرتے۔بلکہ ذکر تک نہ کرتے۔اور جب آپ کو توجہ دلائی جاتی تو فرماتے کہ اگر ان غرباء کے پاس روپیہ ہوتا تو خود ہی لا کر دے دیتے۔مطالبہ کی ضرورت نہیں۔ان کی قرض کی دستاویزات جلا دی جائیں۔ایسے کاموں پر آپ نے دو لاکھ کے قریب روپیہ خرچ کیا۔آپ ہمیشہ ٹانگہ وغیرہ والوں کو حق سے زیادہ رقم دیتے۔اگر اس کا بچہ ساتھ ہوتا تو اسے بھی کچھ رقم دے دیتے۔جنہوں نے کاروبار کے سلسلہ میں آپ کو رو پیدا دا کرنا ہوتا اگر انہیں مہلت درکار ہوتی تو مہلت دے دیتے۔ایک غیر مسلم پٹواری سے آپ نے باغیچہ بیچ لے کر رجسٹری کرالیا۔کچھ عرصہ بعد وہ فوت ہو گیا۔اس کی بیوہ اور بچوں اور بھائی کے کہنے پر آپ نے باغیچہ مفت میں واپس کر دیا۔چونکہ آپ نرم طبع تھے اس لئے جو کوئی سوال کرتا امداد حاصل کر لیتا۔ایک شخص جواب تحصیلدار ہے۔ایک روز کہنے لگا سیٹھ صاحب لوگ آپ کو دھوکہ دے کر روپیہ لے جاتے ہیں۔ہنس کر فرمانے لگے کہ شکر ہے میں کسی کو دھوکہ نہیں دیتا۔اسی شخص نے شدید ضرورت