اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 223 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 223

222 سے محبت کا جذبہ بے پایاں رکھنے والے بزرگ تھے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ آپ کے متعلق فرماتے ہیں: اس وقت میں جن کی لڑکی کے نکاح کا اعلان کرنے والا ہوں۔وہ حیدر آباد کے رہنے والے سیٹھ محمد غوث ہیں۔وہ بھی ان مخلصین سے ہیں جن کا دل خدمت سلسلہ کے لئے گداز ہے اور اس کا بہت ہی احساس رکھتے ہیں۔تھے تو وہ پہلے سے احمدی مگر میرے ساتھ ان کی واقفیت جو ہوئی تو وہ حج کو جاتے ہوئے ۱۹۱۲ ء میں ہوئی تھی۔( یہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا زمانہ تھا اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ان ایام میں احد من الناس تھے۔گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے لخت جگر ہونے کی وجہ سے ان کا مقام الگ تھا۔لیکن سیٹھ صاحب کا ان ایام میں تعلقات کا بڑھانا اسی جذ بہ کا نتیجہ تھا جو حب اہل بیت کا تھا۔عرفانی کبیر ) شاید ان کو علم ہو کہ میں جار ہا ہوں یا شاید وہ تجارت کے سلسلہ میں وہاں آئے ہوئے تھے۔بہر حال ان سے میری پہلی ملاقات وہاں ہوئی۔اور پھر ایسے تعلقات قائم ہو گئے کہ گویا واحد گھر کی صورت پیدا ہوگئی۔مستورات کے بھی آپس میں تعلقات ہو گئے۔حج کے موقعہ پر عبدالئی عرب بھی میرے ساتھ تھے۔وہاں سے روانگی کے وقت سیٹھ صاحب نے ان کو بعض چیزیں دیں۔جن میں ایک گلاس بھی تھا۔وہ انہوں نے عبدالحی صاحب کو یہ کہ کر دیا تھا کہ جب آپ اس میں پانی پئیں گے تو میں یاد آ جاؤں گا اور اس طرح آپ میرے لئے دعا کی تحریک کر سکیں گے۔غرض سیٹھ صاحب حیدر آباد کے نہایت مخلص لوگوں میں سے ہیں۔چندہ کی فراہمی کے لحاظ سے جماعت میں اتفاق و اتحاد قائم رکھنے کے لحاظ سے انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔اور بغیر اس کے کہ کوئی وقفہ پڑا ہو۔کیا ہے۔اور ان کے اخلاص کا ہی نتیجہ ہے کہ ان کے بڑے لڑکے محمد اعظم صاحب میں ایسا اخلاص ہے جو کم نوجوانوں میں ہوتا ہے۔تبلیغ اور تربیت کی طرف انہیں خاص توجہ ہے۔میں نے دیکھا ہے ریاستوں میں تبلیغ کرنے سے لوگ عام طور پر ڈرتے ہیں اور کوئی بات ہو بھی تو کوشش کرتے ہیں کہ بڑے بڑے لوگوں کو اس کی اطلاع نہ ہو سکے۔مگر میں نے دیکھا ہے محمد اعظم صاحب کو شوق ہے کہ ریاست میں کھلی تبلیغ اور اشاعت کی جائے اور اس کے متعلق وہ مجھ سے بھی مشورے لیتے رہتے ہیں۔