اصحاب احمد (جلد 1) — Page 169
167 تک رواداری سے کام کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص امداد کا محتاج ہوتا تو اس کی ہر ممکن امداد کرتے تھے۔چنانچہ آپ کے اس حسن سلوک کا غیر احمدیوں پر بھی اچھا اثر تھا۔اور جب غیر احمدی آپ کا مقابلہ غیروں سے کرتے تھے تو ان کے لئے کوئی چارہ سوائے قبول احمدیت کے نہ رہتا تھا“۔آپ کا نیک نمونہ احمدی بنانے کا موجب ہوتا: چنانچہ بعض لوگ آپ کے اس نیک نمونہ کو دیکھ کر ہی داخل سلسلہ ہوئے تھے۔چوہدری فتح محمد صاحب سکنہ ماڑی بوچیاں ( ضلع گورداسپور ) اپنے گاؤں میں اچھے ذی عزت زمیندار تھے۔اور عہدہ کے لحاظ سے وہ سفید پوش یا ذیلدار تھے۔وہ محض ملک صاحب کے حسن سلوک اور رواداری کی وجہ سے داخل سلسلہ ہوئے تھے اور داخل سلسلہ ہونے کے بعد بھی چوہدری صاحب کے ملک صاحب اور اُن کے خاندان کے ساتھ ایسے تعلقات تھے جیسے دو حقیقی بھائیوں کے خاندانوں کے ہوتے ہیں۔ان کی ہر غمی اور خوشی میں شریک ہوتے تھے۔اعلیٰ ڈرافٹ تیار کرنے کی قابلیت : پنشن کے بعد آپ نے یہاں اپنا مکان تعمیر کرایا ۳۶۳۷ء میں آپ میونسپل کمیٹی کے پریذیڈنٹ منتخب ہوئے۔میں نے مرحوم کے ساتھ ۳۷ ء سے لے کر ۴۷ ی تک متواتر دس سال تک کام کیا۔میں کمیٹی میں ممبر تھا۔میں نے اس تمام عرصہ میں ہمیشہ یہ دیکھا کہ مرحوم کیا ڈرافٹ تیار کرنے میں اور کیا قانون دانی میں ایسا مضمون اور عبارت لکھواتے تھے جو جامع مانع ہوتی تھی اور بالا افسران سرکاری اس میں کوئی غلطی یا ستم نہ نکال سکتے تھے۔اب بھی جبکہ آپ قادیان سے جا کر اس جہان فانی سے رحلت فرما چکے ہیں۔میونسپل کمیٹی کے موجودہ کارکنان آپ کی تقلید میں آپ کے پرانے جامع فقرات کو گذشتہ سالوں کے رجسٹرات روئداد سے نقل کر کے اپنے فیصلہ جات میں استعمال کرتے ہیں۔غیر مسلموں کے احساسات کا خیال رکھنا : صدارت بلدیہ کے عرصہ میں آپ کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ سکھ اور ہند وممبروں کو ساتھ رکھا جائے اور کوئی ایسا ریزولیوشن پاس نہ ہو جس میں اتفاق رائے نہ ہو۔آپ رواداری اور غیروں کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے اپنی ڈیوٹی کو سرانجام دیتے رہے۔اگر کبھی کوئی معاملہ ایسا پیش آجاتا جس میں مذہب کا ذرا بھی دخل ہوتا تو آپ ہندو سکھ