اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 170 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 170

168 ممبران سے کہہ دیتے کہ آپ لوگ چلے جائیں کیونکہ ہم نے گائے یا بوچڑ خانہ وغیرہ کے متعلق کوئی ریزولیوشن پاس کرنا ہے۔گویا غیر مسلموں کے احساسات کا احترام کرتے تھے۔تحمل اور بُردباری: ” میرے مشاہدہ میں اکثر یہ بات بھی آئی کہ آپ کا اگر اپنے کسی ساتھی کے ساتھ اختلاف رائے ہوتا تو تحمل اور بردباری سے برداشت کرتے۔اور اگر کسی ممبر کے ساتھ وقتی طور پر ناراض بھی ہو جاتے تو تھوڑی ہی دیر کے بعد اس کے ساتھ بولنے اور اُسے خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔میونسپل کمیٹی کا کام باقاعدہ دفتر میں بیٹھ کر سرانجام دیتے تھے۔اور اس وقت تک دفتر میں موجود رہتے جب تک سارا کام ختم نہ ہو جاتا۔ملک صاحب کو کلرک آف کورٹ رہ چکنے کی وجہ سے دیوانی اور فوجداری قوانین سے اس قدر واقفیت تھی کہ میں بحیثیت قاضی یا ناظم قضاء یا میرے بعض قاضی ساتھی قضاء کے معاملہ میں قانونی مشورہ لیتے تھے۔اور میں نے ہمیشہ ان کی رائے کو صائب پایا۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی شاید انہی وجوہ کی بناء پر آپ کو قضائی مقدمات کے لئے اپنا ریڈر مقرر فرمایا تھا۔آپ مسل کا خلاصہ اس طرح کر کے حضور کی خدمت میں پیش کرتے کہ حضور کو فیصلہ میں آسانی رہتی تھی۔ملک صاحب مرحوم نے بہت سے قضائی اسقام کی درستی کے لئے حضور کی خدمت میں مشورہ عرض کر کے حضور کی ہدایات حاصل کیں۔اور انہیں قواعد میں شامل کروایا۔اس لحاظ سے محکمہ قضاء میں بعض امور ہمیشہ مرحوم کی یادتازہ رکھیں گے۔عربی سیکھنے کا شوق : ملک صاحب مرحوم علم دوست آدمی تھے۔پنشن کے بعد ان کو عربی تعلیم کے ساتھ خاص دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔چنانچہ آپ " تحصیل عربی کے لئے با قاعدہ بعض درسی کتب سبقاً سبقاً پڑھا کرتے تھے۔جس کا فائدہ یہ ہوا کہ آپ کو عربی میں خاص واقفیت حاصل ہو گئی تھی۔اور اکثر اوقات بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں پڑھ کر خصوصاً میونسپل کمیٹی میں اجلاس کے دن مجھے مسجد اقصیٰ سے اپنے ساتھ لے لیتے اور عربی میں گفتگو کرتے جاتے تھے۔چنانچہ