اصحاب احمد (جلد 1) — Page 93
92 مرزا یعقوب بیگ صاحب واقعہ بیعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : بیعت کا اثر اس قدر ہوا کہ تمام دینی بے رغبتی کا فور ہو گئی۔نماز پنجگانہ کے علاوہ تہجد کا سلسلہ بھی جاری ہو گیا۔ان دنوں میں میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔دوسرے طلباء کا جو وقت کھیل کود میں صرف ہوتا تھا وہ ہم نماز اور قرآن خوانی میں صرف کرتے تھے۔اس تبدیلی کو ہمارے والد مرحوم نے جو ہماری بے دینی کے سخت شا کی تھے۔نہایت تعجب سے محسوس کیا اور جب اصل حالات اُن پر گھلے اور حضرت صاحب کی زیارت سے مشرف ہوئے تو وہ بھی بیعت میں داخل ہو گئے۔“ حضرت اقدس سے انتہائی محبت اور قادیان میں مصروفیات: مرزا ایوب بیگ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہونے کی اتنی تڑپ تھی کہ کوئی مہینہ نہ گذرتا تھا جس میں ایک دو مرتبہ حضور کی زیارت سے مشرف نہ ہو آتے تھے۔جب دو چار روز کی رخصت ہوتی قادیان جا گزارتے۔اسی طرح موسم گرما کی دو اڑھائی ماہ کی تعطیلات کا اکثر حصہ بھی۔بسا اوقات مرحوم صرف اتوار کے دن کے لئے قادیان چلے آتے۔ہفتہ کی رات کے دس گیارہ بجے بٹالہ اتر کر اسی وقت قادیان کے لئے پیدل روانہ ہو جاتے۔اور سارا دن قادیان رہ کر شام کو پیدل واپس چلے جاتے۔بارش کے طوفان، آندھی جھکڑ کی کبھی پروانہ کرتے اور کئی بار بارش میں بھیگتے ہوئے پہنچے۔چونکہ بارش کے ایام میں قادیان جزیرہ بنا ہوا ہوتا تھا۔اس لئے کمر تک پانی میں سے گذر کر قصبہ میں آنا پڑتا۔کئی دفعہ لا ہور سے ایک قافلہ کی صورت میں احباب قادیان کے لئے روانہ ہوتے تو بٹالہ سے آگے جہاں سے پیدل چلنا ہوتا تھا مرحوم کمزور اور ضعیف العمر احباب کا سامان خود اٹھا لیتے۔یکہ کرایہ پر لیتے اور دیکھتے کہ کوئی بھائی مفلس یا کمزور ہے تو اُسے سوار کر کے خود پیدل چل پڑتے۔آپ مضبوط جسم کے تھے۔یہ بھی سنا گیا ہے کہ بعض اوقات تھکے ہوئے ضعیف العمر احباب کو راستہ میں اپنی کمر پر بھی اُٹھا لیتے۔قادیان جاتے ہوئے نیز واپسی پر راستہ میں درود و استغفار پڑھتے اور قادیان نظر پڑنے پر مسنون دعا پڑھتے تھے۔چنانچہ الحکم میں آپ کی ایک بار قادیان میں آمد کا ذکر ہم ذیل کے الفاظ میں مرقوم پاتے ہیں:۔”ہفتہ زیر اشاعت میں مندرجہ ذیل احباب تشریف لائے۔جناب مرزا نیاز بیگ صاحب پنشنر ضلعدار کلانور سے۔جناب مرزا ایوب بیگ صاحب سائنس ماسٹر چیفس کالج لاہور۔پیشگوئی کے مطابق سورج گرہن: رمضان کے مہینے میں چاند اور سورج کو گرہن لگنے کی پیشگوئی دار قطنی وغیرہ احادیث میں بطور علامت