اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 94 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 94

93 مہدی بیان ہوئی ہے۔مارچ ۱۸۹۴ء میں پہلے چاند ماہ رمضان میں گہنایا۔جب اسی رمضان میں سورج کو گرہن لگنے کے دن قریب آئے تو دونوں بھائی اس ارادہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہ نشان دیکھیں اور کسوف کی نماز ادا کریں۔ہفتہ کی شام کو لاہور سے روانہ ہو کر قریبا گیارہ بجے رات بٹالہ پہنچے۔اگلے دن علی اصبح 4 اپریل ۱۸۹۴ء کو ۱۲ ) گرہن لگنا تھا۔آندھی چل رہی تھی۔بادل گر جتے اور بجلی چمکتی تھی۔ہوا مخالف تھی اور مٹی آنکھوں میں پڑتی تھی۔قدم اچھی طرح نہیں اُٹھتے تھے۔اور راستہ صرف بجلی کے چمکنے سے نظر آتا تھا۔ساتھ آپ کے اہل وطن دوست مولوی عبدالعلی صاحب بھی تھے۔" سب نے ارادہ کیا کہ خواہ کچھ بھی ہو راتوں رات قادیان پہنچنا ہے۔چنانچہ تینوں نے راستہ میں کھڑے ہو کر نہایت تضرع سے دعا کی کہ اے اللہ جو زمین و آسمان کا قادر مطلق خدا ہے! ہم تیرے عاجز بندے ہیں، تیرے مسیح کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور ہم پیدل سفر کر رہے ہیں، سردی ہے تو ہی ہم پر رحم فرما ہمارے لئے راستہ آسان کر دئے اور اس باد مخالف کو دور کر ! ابھی آخری لفظ دعا کا منہ میں ہی تھا کہ ہوانے رُخ بدلا اور بجائے سامنے کے پشت کی طرف چلنے لگی اور مد سفر بن گئی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہوا میں اڑے جا رہے ہیں۔تھوڑی ہی دیر میں نہر پر پہنچ گئے۔اس جگہ کچھ بوندا باندی شروع ہوئی۔نہر کے پاس ایک کوٹھا تھا اس میں داخل ہو گئے۔ان ایام میں گورداسپور کے ضلع کی اکثر سڑکوں پر ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی تھیں۔دیا سلائی جلا کر دیکھا تو کوٹھا خالی تھا اور اس میں دوا پہلے اور ایک موٹی اینٹ پڑی تھی۔ہر ایک نے ایک ایک سرہانے رکھی اور زمین پر سو گئے۔کچھ دیر بعد آنکھ کھلی تو ستارے نکلے ہوئے تھے اور آسمان صاف تھا اور بادل اور آندھی کا نام ونشان نہ تھا۔چنانچہ پھر روانہ ہوئے اور سحری حضرت کے دستر خوان پر کھائی۔نماز کسوف صبح حضرت اقدس کے ساتھ کسوف کی نماز پڑھی، جو کہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے مسجد مبارک کی چھت پر پڑھائی۔قریباً تین گھنٹہ یہ نماز وغیرہ جاری رہی۔کئی دوستوں نے شیشے پر سیاہی لگائی ہوئی تھی۔جس میں سے وہ گرہن دیکھنے میں مشغول تھے۔ابھی خفیف کی سیاہی شیشے پر شروع ہوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوکسی نے کہا کہ سورج کو گرہن لگ گیا ہے۔آپ نے اس شیشہ میں سے دیکھا تو نہایت ہی خفیف سی سیاہی معلوم ہوئی۔حضور نے اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ اس گرہن کو ہم نے تو دیکھ لیا، مگر یہ ایسا خفیف ہے کہ عوام کی نظر سے اوجھل رہ جائے گا۔اور اس طرح ایک عظیم الشان پیشگوئی کا نشان مشتبہ ہو جائے گا۔حضور * مرزا مسعود بیگ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مولوی عبدالعلی صاحب مرحوم مرزا ایوب بیگ صاحب کے ہم جماعت اور کلانور میں آپ کے محلہ دار تھے۔(مؤلف)