اصحاب احمد (جلد 1) — Page 58
58 نہایت احسان کی نظر سے دیکھا تھا، اور چونکہ یہ لوگ کبھی پسند نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کوئی احسان کا فعل کرئے اور وہ اس کو بدلہ نہ دیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ خیال کر کے کہ لڑکے کا فوت ہو جانا ڈاکٹر صاحب کے خاندان کو نا گوار گزرا ہو گا۔پھر جولڑ کی اس طرح رہ جائے اس کے متعلق بُرے خیالات ظاہر کئے جاتے ہیں۔پھر غیرت کا بھی تقاضا ہوتا ہے کہ جن کا رشتہ ہوتا ہے وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں ہی ہو۔ان باتوں کو مد نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گھر میں ذکر کیا کہ اس لڑکی کا رشتہ ہمارے ہی گھر میں ہو تو اچھا ہے۔چنانچہ یہ بات روایت یہاں مشہور ہے کوئی اب نہیں بنائی گئی۔۳۳ حضرت مولوی صاحب کے بیان کی تائید حضرت ام المومنین اطال اللہ بقاء ہا کی روایت سے بھی ہوتی ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام ھم فرماتے ہیں: حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب مبارک احمد فوت ہو گیا، اور مریم بیگم جس کے ساتھ اس کی شادی ہوئی تھی بیوہ رہ گئی تو حضرت صاحب نے گھر میں ایک دفعہ یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ یہ لڑکی ہمارے گھر میں ہی آجاوے تو اچھا ہے۔یعنی ہمارے بچوں میں سے ہی کوئی اس کے ساتھ شادی کرلے تو بہتر ہے۔چنانچہ خاکسار عرض کرتا ہے کہ زیادہ تراسی بناء پر حضرت خلیفہ آسیح الثانی نے مریم بیگم سے شادی کی ہے۔۳۴ حضرت خلیفہ ایسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : چھتیں سال کے قریب ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم بیگم کا نکاح ہمارے مرحوم بھائی مبارک احمد سے پڑھوایا۔اس نکاح کے پڑھوانے کا موجب غالباً بعض خواہیں تھیں جن کو ظاہری شکل میں پورا کرنے سے ان کے انداری پہلو کو بدلنا مقصود تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوئی اور مبارک احمد مرحوم اللہ تعالیٰ سے جاملا اور وہ لڑکی جو ابھی شادی اور بیاہ کی حقیقت سے ناواقف تھی بیوہ کہلانے لگی۔اُس وقت مریم کی عمر دو اڑھائی سال کی تھی اور وہ اور ان کی ہمشیرہ زادی عزیزہ نصیرہ اکٹھی گول کمرہ سے جس میں اس وقت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم ٹھہرے ہوئے تھے کھیلنے کے لئے اوپر آ جایا کرتی تھیں۔۳۵