اصحاب احمد (جلد 1) — Page 35
35 صاحبزادہ صاحب کی تربیت کے متعلق ایک واقعہ : عام طور پر والدین بچوں کی تربیت کرتے ہوئے صحیح طریق اختیار نہیں کرتے۔یا تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرفت کرتے ہیں اور اس طرح بچوں کے طبعی اور آزدانہ قومی واطوار کی صحیح ترقی میں روک بنتے ہیں۔یا پھر بعض اہم امور دینی میں بھی بے پرواہی اور درگذر سے کام لیتے ہیں اور اس طرح اولا د کو خو دسر اور بے دین بنا دیتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طریق بالکل طبعی تھا۔آپ جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اولاد سے چشم پوشی فرماتے تھے وہاں اہم دینی امور میں گرفت اور سرزنش بھی فرماتے تھے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میضہم فرماتے ہیں کہ حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ تمہارے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بچپن کی بے پروائی میں قرآن شریف کی کوئی بے حرمتی ہوگئی۔اس پر حضرت مسیح موعود کو اتنا غصہ آیا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے بڑے غصہ میں مبارک احمد کے شانہ پر ایک طمانچہ مارا جس سے اس کے نازک بدن پر آپ کی انگلیوں کا نشان اُٹھ آیا۔اور آپ نے اس غصہ کی حالت میں فرمایا کہ اس کو اس وقت میرے سامنے سے لے جاؤ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت صاحب کو اس سے بہت محبت تھی۔چنانچہ اس کی وفات پر جو شعر آپ نے کتبہ پر لکھے جانے کے لئے کہے اس کا ایک شعر یہ ہے۔جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خُو تھا وہ آج ہم سے جُدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر مبارک احمد بہت نیک سیرت بچہ تھا اور وفات کے وقت اس کی عمر صرف کچھ اوپر آٹھ سال کی تھی۔لیکن حضرت صاحب نے قرآن شریف کی بے حرمتی دیکھ کر اس کی تادیب ضروری سمجھی۔کا خدمت گذاری پر حضور کی قدردانی : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے خدام کی خدمت گذاری پر قدردانی فرماتے تھے۔اور آپ من لم يشكر الناس لم یشکر اللہ کی حدیث پر پورے طور پر عامل تھے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میضہم فرماتے ہیں: