اصحاب احمد (جلد 1) — Page 34
34 تھا اور عمر قریباً چار برس کی تھی۔اس وقت میں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا۔میں نے دیکھا کہ مبارک احمد زور سے میری طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور سخت بدحواس ہو رہا ہے۔میرے سامنے آ کر اتنا اس کے منہ سے نکلا کہ اپنا پانی بعد اس کے نیم بے ہوش کی طرح ہو گیا اور وہاں سے کنواں قریباً پچاس قدم کے فاصلہ پر تھا میں نے اس کو گود میں اٹھا لیا اور جہاں تک مجھ سے ہوسکا میں تیز قدم اُٹھا کر اور دوڑ کر کنوئیں تک پہنچا اور اس کے منہ میں پانی ڈالا۔جب اس کو ہوش آئی اور کچھ آرام آیا تو میں نے اس سے اس حادثہ کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا کہ بعض بچوں کے کہنے سے بہت سالپسا ہوا نمک پھانک لیا اور دماغ پر بخار چڑھ گئے اور سانس رک گیا اور گل گھونٹا گیا۔پس اس طرح پر خدا نے اس کو شفادی اور کشفی پیشگوئی پوری کی۔‘‘ ۱۵۔فضل الہی سے خسرہ سے شفایابی: ایک دفعہ صاحبزادہ صاحب خسرہ سے بیمار ہو گئے اور سخت تکلیف اُٹھائی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائنی اور صاحبزادہ صاحب کو شفا عطا فرمائی۔چنانچہ مرقوم ہے۔ایک صاحب گھر میں آئے طب کا ذکر شروع ہوا۔فرمایا کہ طبیب میں علاوہ علم کے جو اس کے پیشہ کے متعلق ہے ایک صفت نیکی اور تقویٰ بھی ہونی چاہئے ورنہ اس کے بغیر کچھ کام نہیں چلتا۔ہمارے پچھلے لوگوں میں اس کا خیال تھا اور لکھتے ہیں کہ جب نبض پر ہاتھ رکھے تو یہ بھی کہے لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنا یعنی اے خداوند بزرگ ہمیں کچھ علم نہیں مگر وہ جوٹو نے سکھایا۔فرمایا کہ دیکھو پچھلے دنوں میں مبارک احمد کو خسرہ نکلا تھا۔اس کو اس قدر کھجلی ہوتی تھی کہ وہ پلنگ پر کھڑا ہو جاتا تھا، اور بدن کی بوٹیاں تو ڑتا تھا۔جب کسی بات سے فائدہ نہ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب دعا کرنی چاہئے۔میں نے دعا کی اور دُعا سے ابھی فارغ ہی ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کچھ چھوٹے چھوٹے چو ہوں جیسے جانور مبارک احمد کو کاٹ رہے ہیں۔ایک شخص نے کہا کہ ان کو چادر میں باندھ کر باہر پھینک دو۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔جب میں نے بیداری میں دیکھا تو مُبارک احمد کو بالکل آرام ہو گیا تھا۔اسی طرح دست شفا جو مشہور ہوتے ہیں اس میں کیا ہوتا ہے۔وہی خدا کا فضل اور کچھ نہیں۔۱۶