اصحاب احمد (جلد 1) — Page 218
217 روزی کمانے میں مدد دیتی تھیں۔قبول احمدیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے کام میں ایسی برکت ڈالی کہ روز مرہ کی آمدنی کا گننا مشکل ہوگیا۔چنانچہ ترازو سے روپیہ تکنے لگا۔چار ہزار کا ریگر آپ کے کام سے روزی کمانے لگے اور تجارت یہاں تک چمکی کہ کاروبار میں بائیس لاکھ تک جا پہنچا۔مدر اس۔بنگال بمبئی اور دکن کے علاقوں میں چالیس کے قریب ایسی دکانیں تھیں جہاں ذاتی نگرانی میں براہ راست آپ کا مال فروخت ہوتا تھا۔اور مختلف مقامات پر کثیر تعداد میں جوایجنسی والی دکانات تھیں وہ ان کے علاوہ تھیں۔نو دس مقامات پر آپ کی آئے، تیل نکالنے اور کپاس بلینے کی ملیں (MILLS) بھی ہو گئیں۔کاروبار میں زوال : اللہ تعالٰی مومنوں کو بتلاؤں کی بھٹی میں سے گزار کر کندن بناتا ہے چنانچہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالا نُفْسِ وَالثَّمَرَاتِ۔میں مذکورہ سنت الہیہ کے مطابق مصلحت الہی نے سیٹھ صاحب کی تربیت اور روحانی ترقی کے لئے آپ کو مالی ابتلاؤں کے ایک لمبے دور سے گذار نا مناسب سمجھا۔آپ بیڑی کے کاروبار کے لئے رنگون گئے۔وہاں کے لئے جو سٹاک تیار کر کے لے گئے تھے وہ اس علاقہ کے مناسب حال نہ تھا۔اس لئے سارے کا سارا ضائع چلا گیا۔یکدم نقصان عظیم ہونے سے مشہور ہو گیا کہ آپ کی مالی حالت اچھی نہیں رہی۔اور ساکھ جاتی رہی۔اور وہی لوگ جو آپ سے لاکھوں روپیہ کما چکے تھے۔مطالبات کرنے لگے۔چنانچہ میں کے قریب مقدمات آپ کے خلاف دائر ہو گئے۔آپ کو اپنے کارندوں پر بہت بھروسہ تھا۔اس لئے حساب کتاب کے معاملہ میں ہمیشہ یہی فرمایا کرتے کہ ہم نے حساب کیا لینا ہے۔ہر شخص کو خدا تعالیٰ کا خوف رکھنا چاہئے۔ایمانداری سے کام کرنا چاہئے۔لیکن جب مقدمات دائر ہو گئے تو وہ لوگ جو ایماندار نہ تھے۔جو سرمایہ ان کے ہاتھوں میں تھا اسے خرد برد کر گئے۔چونکہ آپ سائلوں کو رد کرنے کی بجائے اپنے نام پر انہیں قرض دلاتے رہے۔اس لئے آپ زیادہ ہی زیادہ زیر بار ہوتے گئے۔غیر معمولی صبر و استقلال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَا بَتْهُمُ مُّصِيبَةٌ قَالُوانَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ که مرد مومن کی علامت یہ ہے کہ ابتلاؤں کے دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی استقامت کا ثمرہ اسے اللہ تعالیٰ کی برکات اور رحمت کے رنگ میں حاصل ہوتا ہے۔اخویم خواجہ محمد اسماعیل