اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 203 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 203

202 نے یہ خبرسنی تو اس وقت سجدہ میں گر گئے اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر عرض کیا کہ مولا ! کیا تو نے مجھے خود نہیں کہا تھا کہ ہم اس کو اپنی رحمت میں لے لیں گے؟ تو جانتا ہے کہ میں نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں بنائی تھی۔وہ تو قید ہو گئے کیا رحمت میں لینا قید ہوتی ہے؟ میں نے تو اُن کے گھر بھی اطلاع دی ہوئی ہے کہ بری ہو جائیں گے۔فرماتے تھے کہ میں ابھی سجدہ میں تھا کہ آواز آئی کہ چوہدری صاحب کی ضمانت ہوگئی۔بات یوں ہوئی کہ جب فیصلہ کے بعد پولیس ہتھکڑی لگانے لگی تو اس انگریز حاکم نے جو اس مقدمہ کے لئے خاص طور پر بلوایا گیا تھا کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ ہم چوہدری صاحب کو ہتھکڑی نہیں لگنے دیں گے۔چوہدری صاحب آپ ضمانت دے دیں۔اس طرح ضمانت ہوگئی۔پھر اپیل میں بری ہو گئے۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ چوہدری صاحب کو سزا اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کے ایماء پر دی گئی تھی کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ ان کو سزا دلوا کر شہر میں ان کے اثر و رسوخ کو کم کیا جائے۔جب اس نے سنا کہ حاکم نے خود ہی ضمانت لے لی ہے تو حضرت میر حامد شاہ صاحب کے بیان کے مطابق جو اس وقت دفتر میں موجود تھے ڈپٹی کمشنر کی یہ حالت ہوئی کہ وہ دونوں کہنیاں میز پر رکھ کر اور دونوں ہاتھوں سے ما تھا تھام کر کہتا تھا کہ ہائے صاحب بہادر نے کیا کیا! اُسے تو ضمانت لینے کا اختیار نہیں تھا۔منشی صاحب سیالکوٹ میں ایک دفعہ بیمار ہوئے۔فرمایا میں مسجد میں لیٹا ہوا تھا کہ ایک لڑکا میرے سامنے آیا اور کہنے لگا کمزوری بہت ہوگئی ہے۔ورنہ مادہ حیات تو ابھی بہت باقی ہے۔یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا۔آپ نے واقعہ دوستوں کو سنا دیا۔دس سال بعد قادیان میں بورڈنگ ہائی سکول سے آپ گر پڑے اور سخت چوٹیں آئیں۔چونکہ کمز ور زیادہ ہو گئے تھے اور چوٹیں بھی سخت آئیں، خیال تھا کہ چولے کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اس لئے اکثر دوست سمجھتے تھے کہ آپ جانبر نہ ہو سکیں گے۔یہ خبر جب سیالکوٹ پہنچی تو ایک شخص جس نے وہ الہام سنا ہوا تھا کہنے لگا کہ وہ ابھی نہیں مرتا، ابھی تو صرف دس سال گزرے ہیں۔اس کو الہام ہوا تھا کہ مادہ حیات بہت باقی ہے خدا کا مادہ حیات اتنی جلدی ختم نہیں ہو جاتا۔اس واقعہ کے بعد آپ ۳۰ سال سے زیادہ عرصہ تک زندہ رہے۔جب ڈاکٹر صاحب نے میٹرک کا امتحان دیا تو ایک دن انہیں فرمانے لگے کہ میں نے رات تمہارا نتیجہ دیکھا ہے۔تم پاس ہو اور تین سو سے اوپر نمبر ہیں۔اوپر کے یاد نہیں رہے۔ان کے نمبر ۳۱۹ تھے۔اسی طرح جب انہوں نے ڈاکٹری کے آخری سال کا امتحان دیا تو ایک دن فرمایا کہ آج رات میں نے دیکھا ہے کہ تمہاری جماعت کا نتیجہ ایک بورڈ پر لگا ہوا ہے۔تین فہرستیں علیحدہ علیحدہ لگی ہوئی ہیں۔ایک کے اوپر لکھا ہوا ہے پاس۔اس میں تمہارا نام ہے مگر کاٹ دیا ہوا ہے۔دوسری پر فیل لکھا ہوا ہے۔اس میں تمہارا نام نہیں۔تیسری فہرست میں تمہارا نام لکھا ہوا ہے۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا بات ہے۔جب نتیجہ نکلا تو وہ آئی سرجری (Eye Surgery) میں