اصحاب احمد (جلد 1) — Page 196
195 رض آ گیا۔جس کی وجہ سے شہرت ہو گئی اور آنکھوں کے مریض آپ کے پاس کثرت سے آنے شروع ہو گئے۔ان لوگوں کی حالت کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ ایک گاؤں میں آپ گئے تو السلام علیکم کہا۔ایک شخص نے کسی ہاتھ میں پکڑ کر کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ تیرا سر اتار دوں۔آپ اس کے قریب ہو گئے اور کہا کہ بے شک آپ ایسا ہی کر لیں جس سے متحیر ہو کر پیچھے ہو گیا۔آپ کے علاج سے اس کے لڑکے کی آنکھیں شفایاب ہوگئیں۔وہ بہت معتقد ہو گیا اور اس نے معافی مانگ لی۔اسی طرح بڑھئی جو آپ کا کھانا تیار کرتا تھا اس کے یا اس کی لڑکی کے ہاں بچی پیدا ہوئی۔منشی صاحب نے بہتیرا کہا کہ بچی کو لاؤ تا کہ کان میں اذان کہوں لیکن وہ کترا تارہا۔پھر آپ اس کے گھر گئے اور پھر اصرار کیا۔اس نے اندر جا کر والدہ سے ذکر کیا جو معلوم ہوتا ہے اس سے زیادہ عقلمند تھی اور دین سے بھی کچھ واقفیت رکھتی تھی وہ بچی کو لے آئی اور آپ نے اذان کہی اور پھر اس کی درخواست پر آپ نے اس کا نام زینب رکھا۔اس علاقہ کے چند روساء کا اس گاؤں سے گذر ہوا اور رات منشی صاحب کی اجازت سے آپ کے کمرہ میں ٹھہرے۔ان کے مولوی نے وعظ کیا اور اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُو بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ پڑھ کر اس کی تشریح میں کہا کہ فرشتے موت کے وقت کان میں یہ بات کہتے ہیں۔وعظ کے بعد ان کے کہنے پر منشی صاحب نے بھی یہی آیت پڑھ کر بیان کیا کہ ایسے نیک لوگوں پر اس دنیا میں فرشتے اترتے ہیں اور بشارتیں دیتے ہیں۔اس پر ایک رئیس چونک پڑا اور کہنے لگا اسی دنیا میں؟ آپ نے کہا ہاں۔اسی دنیا میں اور اس کے سوال پر آپ نے اپنا ایک واقعہ سنایا کہ آپ کا لڑکا عبد اللطیف جو آپ کو بہت ہی پیارا تھا، بچپن میں اتنا شدید بیمار ہوا کہ ڈاکٹر اس کی زندگی سے مایوس ہو گئے۔آپ سکول گئے کرسی پر بیٹھے تھے کہ ایک گورا سنہری بالوں والالر کا کرسی کے برابر قد کا پاس سے ہی نمودار ہوا اور اس نے پوچھا کیا لوگ آپ کے پاس امانت رکھتے ہیں؟ آپ نے کہا رکھ جاتے ہیں۔پھر اس نے پوچھا پھر لے بھی جاتے ہیں؟ آپ نے کہاں ہاں لے بھی جاتے ہیں۔اس نے کہا کیا آپ امانت واپس کرتے ہوئے رو پڑا کرتے ہیں؟ میں نے کہا نہیں۔تو اس نے کہا کہ عبداللطیف بھی تو کسی کی امانت ہے۔یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا۔اس سے آپ کی طبیعت میں سرور پیدا ہوا اور آپ نے جماعت کو جسے کہا گیا تھا کہ میری طبیعت خراب ہے آج نہیں پڑھاؤ نگا پڑھانا شروع کر دیا۔گھر آئے تو بچہ تندرست تھا۔پھر مہمانوں میں سے ایک ہندو کے دریافت کرنے پر آپ نے شیطان دیکھنے کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ سیالکوٹ میں آپ مسجد سے نکلے اور بازار کا رخ کیا۔مسجد ایسے موقعہ پر ہے کہ وہاں سے گلی کے آخری سرے پر نظر پہنچتی ہے۔آخری