اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 166 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 166

164 ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے آپ کو مقامی ٹاؤن کمیٹی کا صدر بنا دیا گیا۔چنانچہ فسادات ۱۹۴۷ء تک آپ مؤخر الذکر تینوں عہدوں پر متعین رہے۔بڑھاپے کی عمر میں ان تینوں ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا کوئی سہل کام نہ تھا۔جس کے ساتھ محلہ دارالفضل کی صدارت کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد ہو چکی تھی۔اور پھر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں مرافعہ کی اپیلوں کے پیش کرنے کا کام بھی آپ کے ذمہ تھا۔صدرمحلہ کا عہدہ چونکہ کافی وقت چاہتا تھا۔اس لئے کچھ عرصہ بعد آپ نے باجازت ترک کر دیا۔اور باقی تمام اہم کام آپ فسادات ۱۹۴۷ء تک ایسی جواں ہمتی سے نباہتے رہے کہ بہت سے جوانوں کو بھی مات کرتے تھے۔آپ کے عہد صدارت میں ٹاؤن کمیٹی ترقی کر کے میونسپل کمیٹی بنائی گئی بہت سی اصلاحات ہوئیں، چونگی کا قیام ہوا۔کافی مقدار میں روپیہ جمع کیا تھا تا کہ سٹیشن سے شہر تک سڑک پکی بنائی جاسکے۔پہلے تو جنگ میں خام سامان ملنے میں دقت تھی۔بعد میں سڑک پختہ بنائی جا رہی تھی کہ ۱۹۴۷ء کے فسادات شروع ہو گئے ان تمام عہدوں میں سے سندھ والا اور ناظم جائیداد کا عہدہ کچھ خفیف الاؤنس بھی ساتھ رکھتے تھے۔باقی سب آنریری تھے۔آپ قانونی جائیدادوں کے متعلق دستاویزات تیار کرنے میں بہت مہارت رکھتے تھے۔چنانچہ بوقت ضرورت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بھی ایسے ڈرافٹ آپ سے بنواتے تھے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بحیثیت جماعت احمدیہ کے آخری قاضی کے جو قضائی مقدمات کی سماعت کرتے تھے۔ان کو بطور پیشکار پیش کرنے کی خدمت بھی آپ کے سپر د تھی۔چونکہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی مصروفیات گونا گوں اور بہت ہی زیادہ ہونے کی وجہ سے حضورا پہیلوں کی سماعت کیلئے بہت کم وقت دے سکتے تھے اس لئے آپ نے حضور کو مشورہ دیا کہ حضور اپنی قائم مقامی میں اپیلوں کی سماعت کے لئے ایک بورڈ مقررفرما دیں کہ معمولاً تمام مقدمات کی وہی سماعت کرے اور بعض شرطوں پر پورا اترنے والے صرف چند ایک مقدمات کی اپیل ہائے حضور کے پاس آئیں۔چنانچہ حضور نے اس تجویز کو پسند فرما کر ایک بورڈ مقرر فرمایا۔اور فسادات سے کئی سال قبل اس طریق پر عمل ہوتارہا۔اور اس طرح حضور کا بار ایک حد تک ہلکا ہوگیا اور مقدمات والوں کو بھی فائدہ پہنچا۔تبلیغ میں سرگرمی : آپ کی غیروں کے ساتھ ہر ایک مجلس ایک تبلیغی مہم تھی۔اس کے سوا ملاقاتوں کی اور کوئی غرض پیش نظر نہ ہوتی تھی۔گو ایسا موقعہ کبھی نہیں ملا کہ تمام کام چھوڑ کر محض تبلیغ کے لئے ایک معین مدت تک نکل کھڑے ہوئے ہوں۔لیکن سب غیر احمدی اور غیر مسلم دوستوں سے یہی بات چیت رہتی یہاں تک کہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ مذہبی دیوانے ہیں اور اس کے سوا انہیں اور کوئی کام نہیں۔دوران ملازمت میں وکیلوں، جوں، ڈپٹیوں اور دوسرے لوگوں سے عموماً یہی گفتگو ہوتی رہتی۔گو پیچھے پڑ کر اور راہ جاتے کو تبلیغ کرنا آپ کو نہیں آتا تھا۔مذہبی گفتگو میں بفضل خدا قریبا ہر ایک کا منہ دلائل سے