اصحاب احمد (جلد 1) — Page 165
163 قرآن کریم کثرت سے پڑھتے اور غور سے پڑھتے جہاں خود فائدہ اُٹھاتے وہاں دوسروں کو بھی شامل کرتے۔عمر کے آخری حصہ میں دن میں کئی کئی بار جب بھی دیکھو قرآن شریف پڑھ رہے ہوتے۔اور کاپی اور قلم پاس رکھتے جب کسی آیت کی لطیف تفسیر سمجھ میں آتی اس کو نوٹ کرتے اور بعد میں اپنے اہل وعیال کو سناتے اور نصیحت فرماتے کہ قرآن شریف کو ہمیشہ غور اور تدبر سے پڑھو اور بار بار پڑھو اور سوچو تو معلوم ہوگا کہ واقعی قرآن کریم ہدایت کی مفصل اور مکمل کتاب ہے۔اس وقت ان کے چہرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی دلی خواہش ہے کہ آپ کی اولا د قرآن کریم کی عاشق ہو۔خواجہ محمد اسماعیل صاحب امرتسری درویش ( صحابی ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے بعض غیر احمدیوں سے سنا کہ ملک صاحب رشوت نہیں لیتے تھے اور کام محنت اور دیانتداری سے کرتے تھے۔آپ کو قرآن مجید سے بہت محبت تھی۔ایک حمائل شریف ہر وقت جیب میں رکھتے تھے۔جب آپ امرتسر آتے تو جمعہ پڑھانے کے لئے امیر صاحب آپ ہی کو کہا کرتے تھے۔آپ ہمیشہ قرآن مجید کھول کر آیات تلاوت کر کے ان کی تفسیر بیان کیا کرتے تھے۔ملنسار تھے۔احمدیت کے متعلق بہت غیرت رکھتے تھے۔نماز باجماعت کا بہت خیال رکھتے تھے اور ہمد رد خلائق تھے۔خدمات سلسلہ : جب تک آپ سرکاری ملازمت میں رہے سلسلہ کا جو کام بھی آپ کو کہا گیا خواہ کسی نے کہا ہو آپ نے حتی الامکان کیا۔۱۹۱۲ء میں آپ جماعت امرتسر کے امین تھے اور جماعت کے چندے آپ کے پاس جمع ہوتے تھے۔* آخر ۱۹۳۳ء میں آپ نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کیا کہ اب میں پنشن پر آنے والا ہوں اور حضور کے قدموں میں باقی وقت بسر کرنا چاہتا ہوں۔ابھی آپ رخصت پر امرتسر آئے ہی تھے کہ آپ کو حکم ملا کہ قادیان حاضر ہو کر بطور معاون ناظر بیت المال کام شروع کر دیں۔چنانچہ دسمبر ۱۹۳۳ء میں آپ نے اس عہدہ پر کام شروع کر دیا، پھر آپ نے مقبرہ بہشتی میں کام کیا اور پھر آپ کو اراضیات سندھ کے انتظامات کے سلسلہ میں جانے کا حکم ہوا۔وہاں آپ شدید تپ محرقہ میں مبتلا ہوئے۔صحت یاب ہونے پر آپ چار ماہ کے قیام کے بعد قادیان آئے۔اب آپ کو معاون ناظر تعلیم وتربیت کے کام پر لگایا گیا۔اور وہاں سے ناظم جائیداد اور افسر پراویڈنٹ فنڈ کے عہدہ پر کام کرنے کا حکم ملا۔۱۹۳۷ء کے شروع سے حضرت امیر المومنین * قادیان کے مدرسہ کی تعمیر کے لئے اپریل ۱۹۱۲ ء میں ایک لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک کی گئی تھی۔جون میں فہرست وصولی شائع ہوئی۔اس میں ” معرفت منشی مولا بخش صاحب امین مترجم ڈویژنل کورٹ امرتسر ماللہ درج ہے ۳ (مؤلف)