اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 15 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 15

15 اس کتاب کو چند اولیات حاصل ہیں۔ایک یہ کہ متعدد وفات یافتہ اصحابہ کے سوانح حیات پر مشتمل ہے۔دوسرے جن کی تصاویر صفحہ ہستی پر موجود ہیں وہ بھی درج کر دی ہیں۔تیسرے ضلع گورداسپور کے جن دیہات کا ذکر حالات میں آگیا ہے ان کا نقشہ دے دیا گیا ہے۔سوائے موضع حکیم پور کے کہ مخصوص حالات کی وجہ سے سرکاری نقش نہیں مل سکا اور دیگر نقشوں میں موضع مذکور درج نہیں۔چوتھے دراتح وغیرہ شعائر اللہ جن کا ذکران حالات میں آتا ہے ان میں سے بعض کا نقشہ دے دیا گیا ہے اور دار اسیح وغیرہ کے نقشے بنانے کی سعادت مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے داماد مکرم مرزا برکت علی صاحب آف آبادان (سابق امیر جماعت ہائے احمد یہ بغداد عراق و ایران اسسٹنٹ انجینئر اینگلوایرانین کمپنی، مسجد سلیمان ایران ) کو حاصل ہوئی۔اتفاق سے آپ چند ماہ کی رخصت پر قادیان آئے اور یہ کام اس رخصت میں آپ نے سرانجام دیا یہ نقشے تیار کرنے کا خیال تو عرصہ سے مجھے بھی تھا۔لیکن اس کے لئے کوئی سامان حاصل نہ تھا۔۱۹۴۷ء میں میری تحریک پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اور بعض دوسرے صحابہ بڑے باغ میں تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ۱۹۰۵ء میں باغ میں خیمہ زن ہونے کے متعلق بہت سے امور بتائے کہ حضور کا خیمہ کہاں تھا۔فلاں فلاں بزرگ کے خیمے کہاں کہاں تھے۔مدرسہ تعلیم الاسلام کس جگہ لگتا تھا۔ریویو کا دفتر کس جگہ ہوتا تھا۔مولانا ابوالکلام آزاد ( وزیر تعلیم بھارت) کے بھائی ابوالاثر آہ نے کس جگہ حضور سے ملاقات کی تھی۔ان ایام میں نمازیں کہاں ہوتی تھیں۔چور کہاں پکڑا گیا تھا وغیرہ۔چنانچہ اس کے مطابق مکرم مولوی فضل دین صاحب اوور سیر نے میری درخواست پر نقشہ تیار کیا جو فسادات کی نذر ہو گیا۔مجھے اس کا از حد قلق ہے اور اس امر کا بھی کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب نے از خود فر مایا تھا کہ میں جب پہلی بار قادیان آیا تو دار مسیح کے ارد گرد کا جو اس وقت کا نقشہ تھا تیار کرا دوں گا۔لیکن اب تو حضرت مولوی صاحب ۱۹۴۷ء میں ہجرت کے معا بعد وفات بھی پاچکے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔مرزا صاحب موصوف کی آمد سے قبل میں نے کوشش کی کہ دار مسیح کا نقشہ تیار کراؤں۔لیکن درویشوں میں سے اس کام کا ماہر کوئی نہ ملا۔یہ کمی مرزا صاحب کے آنے سے پوری ہوگئی۔انہوں نے مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی تحریک پر ان کی زیر نگرانی اور پھر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم سے ہدایات لیکر یہ نقشے تیار کئے تھے۔بڑے باغ کے ملحقہ مکان جس میں حضور کا جسد مبارک اٹھایا گیا تھا اور خیمہ گاہ اور جنازہ گاہ جہاں حضور کا جنازہ پڑھا گیا تھا اور اس سے قبل خلافتِ اولیٰ کی بیعت ہوئی تھی۔کے متعلق نقشہ ۱۰/۵۰/ ۷ کو مکرم امیر صاحب مقامی مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی، مکرم ڈاکٹر عطر الدین صاحب اور مکرم میاں عبداللہ خاں صاح