اصحاب احمد (جلد 1) — Page 148
146 * صاحب نے ڈانٹ کر کہا ادھر آنا ہے حلفی بیان ہوگا۔کوئی قید کا معاملہ نہیں ہے۔الغرض کرہاً مولوی صاحب کٹہرہ میں گئے اور ان کو حلف دیا گیا۔اور وہاں انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کا بیان جھوٹا تھا۔مگر کہا کہ جھوٹے کو تو عربی میں کاذب کہتے ہیں۔مرزا صاحب نے مجھے کذاب کہا جس کے معنی ہیں بہت جھوٹا۔اس پر جج نے کہا اچھا اگر آپ کو صرف جھوٹا کہا جاتا تو آپ ناراض نہ ہوتے ؟ چھوٹے اُلو اور بڑے اُلو میں کیا فرق ہے؟ اس پر مقدمہ ختم ہوا اور جج صاحب نے کہا باہر ٹھہرو میں فیصلہ لکھ کر سناتا ہوں جب یہ مقدمہ عدالت ماتحت میں تھا تو بعض معزز مسلمانوں نے صلح کرانے کی کوشش کی تھی۔حضرت اقدس نے جواب دیا تھا کہ ہم کو تو مقدمہ سے کوئی سروکار نہیں، مجھ پر انہوں نے دعوی کیا ہے۔میری جماعت کے بعض آدمیوں نے ان پر استغاثہ کر رکھا ہے۔اگر مولوی صاحب حلفاً کہہ دیں کہ انہوں نے جھوٹ نہیں بولا اور جو لکھا سچ تھا، اور میں نے ان کو خواہ مخواہ کذاب کہا ہے تو ابھی سب مقدمات فیصلہ ہو جاتے ہیں مگر وہاں مولوی کرم دین صاحب نے حلف لینا منظور نہ کیا، جس کے لئے بعد میں اُن کو مجبور ہونا پڑا۔اور حلفاً اپنے جھوٹ کا اقرار کرنا پڑا۔الغرض حج صاحب نے فیصلہ سنایا تو حضرت صاحب اور ہمارے ایک یا دو دوسرے آدمیوں کو جن میں سے ایک مولوی فضل دین صاحب بھیروی تھے اور دوسرے غالباً شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر (اخبار) الحکم تھے یا کوئی اور کہ ان کو بھی جرمانہ ہوا تھا بری کر دیا (اور ) جرمانہ کی واپسی کا حکم دیا اور مولوی کرم دین صاحب کو جو جرمانہ ہو ا تھاوہ قائم رہا۔جج صاحب نے یہ بھی لکھا تھا کہ اپنی لیڈری کی حیثیت کی حفاظت کیلئے مرزا صاحب کا حق تھا کہ وہ مولوی ( کرم دین) صاحب کا جھوٹ ظاہر کرتے اور ان کو ایسا کہتے۔حضور کی مجلس کی سادگی : حضورڑ کی مجلس کی سادگی کے متعلق ملک صاحب بیان کرتے تھے : ”حضور کی مجلس میں مسجد میں جو کوئی پہلے آتا وہ آگے بیٹھ جاتا۔بعد میں آنے والے پیچھے بیٹھا کرتے تھے۔حضرت (الف) خط وحدانی کے الفاظ میری طرف سے ہیں۔(ب) احباب اس پیشگوئی کے متعلق حقیقتہ الوحی صفحہ ۱۲۱ ۲۱۴۴۱۲۲ ۲۱۵ اور اس مقدمہ کی تفصیل کے لئے جو کہ ابتداء ۱۹۰۳ء سے ۶ جنوری ۱۹۰۵ء تک جاری رہا الحکم کے فائل مطالعہ فرمائیں اپیل کی منظوری پر حضرت مولوی ( باقی اگلے صفحے پر )