اصحاب احمد (جلد 1) — Page 135
133 آپ گھر آئے اور والد صاحب سے کہا کہ میں تو قادیان کے جلسہ پر جاتا ہوں آپ بھی چلیں۔انہوں نے کہا نسی جاؤ اسی تے بہن قبر وچ ہی جاواں گے۔یعنی آپ جائیں ہم تو اب قبر میں ہی جائیں گے۔یہ نظارہ دیکھنے کے بعد آپ نیند سے بیدار ہوئے۔والد صاحب پاس کی چار پائی پر لیٹے تھے۔انہوں نے حسب معمول پوچھا خیریت ہے؟ آپ نے فوراً کہا کہ میں تو جلسہ پر قادیان جاتا ہوں آپ بھی چلیں۔انہوں نے کہا ”تسی جاؤ اسی نہیں جاندے، یعنی آپ جائیں ہم نہیں جاتے۔گوانہوں نے قبر والی بات منہ سے تو نہ کہی مگر عملاً ایسا ہی ہو ا۔اس کے بعد باوجود نو سال زندہ رہنے کے نہ قادیان جا سکے اور نہ ہی احمدیت کی طرف ان کا رجوع ہوا۔پہلی اور دوسری بار زیارت حضرت مسیح موعود اور توفیق بیعت : ملک صاحب بیان کرتے ہیں کہ : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو میں نے پہلی بار اس وقت دیکھا جب حضور آتھم کے ( ساتھ ) مباحثہ کے لئے (۱۸۹۳ء میں) امرتسر تشریف لے گئے تھے۔ان دنوں میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرتسری مرحوم نے جو ہمارے ہمسایہ تھے (اور ۳۱۳ صحابہ میں سے تھے ) حضور اور حضور کے خدام کی دعوت کی۔چونکہ ہمارا گھر زیادہ وسیع تھا، اس لئے اس کے صحن میں حضور کو بٹھایا۔یہ مکان جو ہم نے کرایہ پر لیا ہوا تھا کٹڑہ اہلو والیہ کو چہ شیخ کمال الدین کے اندر تھا اور ریاست کپورتھلہ کی ملکیت تھا۔اس وقت میں نے اپنے کو ٹھے پر سے حضور کو دیکھا۔گومیری عمر اس وقت چھوٹی تھی (اس لئے ) مجھے بہت خفیف سا یاد ہے۔اس کے بعد دوسری دفعہ حضور کی زیارت اس وقت ہوئی جب میں دسمبر 1900ء میں قادیان آیا اور بیعت کی۔بیعت کی توفیق پانا دسمبر ۱۹۰۰ء: جلسہ سالانہ ۱۹۰ء پر آپ قادیان آئے۔آپ کے لئے یہ قادیان کی زیارت کا پہلا موقعہ تھا۔آپ بیان فرماتے ہیں: ” میں ڈاکٹر عباداللہ صاحب کے ہمراہ قادیان چلا گیا۔بیعت کرنے کا ابھی کوئی خاص ارادہ نہ تھا۔جب لوگ بیعت کرنے لگے تو جس طرح کوئی پکڑ کر لے جاتا ہے میں بھیج کر چلا گیا اور بیعت کر لی۔الحمد للہ علی ذالک۔دسمبر ۱۹۰۰ ء کی غالباً ۲۷ یا ۲۸ تاریخ تھی۔اس کا اعلان جنوری ۱۹۰۱ ء کے الحکم میں ہے۔“ آپ کا نام فہرست بیعت کنندگان میں یوں مرقوم ہے: * * خطوط وحدانی کے الفاظ میری طرف سے ہیں۔ملک صاحب نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کسی وقت امرتسر والا مکان مذکور دکھاؤں گا۔لیکن افسوس کہ تقسیم ملک اور بعد ازاں اُن کی وفات کی وجہ سے موقعہ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔(مؤلف)