اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 131 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 131

129 ملک مولا بخش صاحب * رضی اللہ عنہ خاندانی حالات ولادت اور تعلیم : آپ کے آباء واجداد ریاست کشمیر کے رہنے والے تھے اور آپ کی قوم ملک کشمیری تھی۔آپ کا خاندان چار پانچ پشت سے کشمیر سے آکر امرتسر میں بُود و باش اختیار کر چکا تھا۔آپ کے والد بزرگوار ملک سلطان بخش صاحب سوداگر پشمینہ تھے۔اور کڑہ اہلو والیاں میں سکونت رکھتے تھے۔ان کی تعلیم بالکل معمولی تھی صرف کاروباری حساب کتاب ہندی زبان میں رکھ سکتے تھے۔مدرسہ کے رجسٹر میں اندراج سے ملک مولا بخش صاحب کا سن پیدائش انداز او۱۸۷ء معلوم ہوتا ہے۔آپ پہلے شخص تھے کہ جنہوں نے اپنے خاندانی پیشہ تجارت کی بجائے ملازمت اختیار کی۔آپ انٹرنس پاس کر کے سیشن کورٹ امرتسر میں بطور کلرک ملازم ہو گئے اور مختلف وقتوں میں پنجاب کے ضلع ہائے ڈیرہ غازی خاں ملتان، ہوشیار پور اور گورداسپور میں متعین ہوتے رہے اور ۱۶ اپریل ۱۹۳۴ء کو کلرک آف کورٹ کے عہدہ سے پنشن حاصل کی۔آپ کے والد کی مذہب سے بے تعلقی آپ کے دیندار بننے کے متعلق ایک شخص کا رویا : آپ کے والد کو عقیدہ حنفی المشرب تھے۔لیکن عملی زندگی میں ان کو مذہب سے زیادہ دلچسپی نہ تھی سوائے اس کے کہ عام متعارف اخلاق ان میں پائے جاتے تھے۔مثلاً غریب پروری، صدقہ خیرات کرنا اور دوسروں کی ضرورت کے وقت کام آنا۔ماحول مذہبی نہ تھا۔اور ملک مولا بخش صاحب اس ماحول میں قرآن مجید * ملک مولا بخش صاحب نے میرے اصرار پر ۱۹۳۵ء میں اپنی سوانح تحریر کر کے مجھے دیئے تھے۔چونکہ یہ خود نوشت تذکرہ کے رنگ میں تھے اس لئے میں نے اپنی طرف سے انہیں دوبارہ تحریر کر کے آپ کو دکھا دیا تھا۔اور آپ نے خفیف اصلاحات بھی کر دی تھیں۔آپ کا قلمی مسودہ اور یہ اصلاح شدہ مسودہ ہر دو میرے پاس محفوظ ہیں۔یہاں جن حالات میں ماخذ کا ذکر نہیں وہ انہی دومسودات سے درج کئے گئے ہیں۔آپ کے کچھ حالات آپ کے فرزند صو بیدار ملک سعید احمد صاحب بی۔اے راولپنڈی کی طرف سے الفضل بابت ۲۰ نومبر ۱۹۴۹ء میں اور آپ کی صاحبزادی آمنہ بیگم صاحبہ کی طرف سے الرحمت جلد نمبر ۲ بابت ۲۸ نومبر ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئے تھے۔شجرہ آپ کے بیٹے ملک سعادت احمد صاحب جلد پشاور سے حاصل کیا گیا ہے۔(مؤلف)