اصحاب احمد (جلد 1) — Page 12
12 صدیوں میں بھی دکھانے سے قاصر رہے گی۔پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے نقش قدم پر جماعت کے دوستوں کو چلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔کہنے والے کہیں گے کہ یہ شرک کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ جنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ پاگل پن کی تعلیم دی جاتی ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ پاگل وہی ہیں جنہوں نے اس رستہ کو نہیں پایا اور اس شخص سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں جس نے عشق کے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کو پالیا۔اور جس نے محبت میں محو ہو کر اپنے آپ کو ان کے ساتھ وابستہ کر دیا اب اُسے خدا سے اور خدا کو اس سے کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔کیونکہ عشق کی گرمی ان دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیتی ہے جس طرح ویلڈنگ کیا جاتا اور دو چیزوں کو جوڑ کر آپس میں بالکل پیوست کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ جسے محض فلسفیانہ ایمان حاصل ہوتا ہے۔اس کا خدا سے ایسا ہی جوڑ ہوتا ہے جیسے قلعی کا نا نکا ہوتا ہے کہ ذرہ گرمی لگے تو ٹوٹ جاتا ہے۔مگر جب ویلڈنگ ہو جاتا ہے تو وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کسی چیز کا جزو ہو۔پس اپنے اندر عشق پیدا کرو اور وہ راہ اختیار کر و جوان لوگوں نے اختیار کی۔پیشتر اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو صحابی باقی ہیں وہ بھی ختم ہوجائیں۔۔۔۔۔یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہزاروں نشانوں کا چلتا پھرتا ریکارڈ تھے۔نہ معلوم لوگوں نے کس حد تک ان ریکارڈوں کو محفوظ کیا ہے۔مگر بہر حال خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کے وہ چشم دید گواہ تھے۔ان ہزاروں نشانات کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ اور آپ کی زبان اور آپ کے کان اور آپ کے پاؤں وغیرہ کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔تم صرف وہ نشانات پڑھتے ہو جو الہامات پورے ہو کر نشان قرار پائے۔مگران نشانوں سے ہزاروں گنے زیادہ وہ نشانات ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان، ناک کان ہاتھ اور پاؤں پر جاری کرتا ہے اور ساتھ رہنے والے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ خدا کے نشانات ظاہر ہورہے ہیں۔وہ انہیں اتفاق قرار نہیں دیتے۔کیونکہ وہ نشانات ایسے حالات میں ظاہر ہوتے ہیں جو بالکل مخالف ہوتے ہیں اور جن میں ان باتوں کا پورا ہونا بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔پس ایک ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک رجسٹر ہوتا ہے۔جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں۔اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کرلی