اصحاب احمد (جلد 1) — Page 103
102 پہنچ گیا تھا کہ کروڑ ہا مخلوقات کو وہ معرفت پیری میں بھی نصیب نہیں ہوتی۔اور اس جہان میں ہی اس کا تعلق اُس جہان سے نزدیک تر ہو گیا تھا۔اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے ایسا پر تھا کہ گویا وہ سارا ہی اس کا ہو گیا تھا، اس لئے اس رَبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ نے اس کو اپنے ہی پاس بلا لیا۔اور یہ سب فضل اور برکت اور حسن خاتمہ اس امام مسیح موعود کے انفاس طیبات اور محبت اور دعا کا نتیجہ تھا۔میں دعا کرتا ہوں کہ ہم میں سے ہر ایک فرد اس مسیح موعود کا ایسا ہی سچا خادم اور جاں نثار ثابت ہو جیسا کہ ہمارا بھائی مغفور و مرحوم ایوب بیگ تھا۔خدا کرے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایسا ہی اچھا خاتمہ ہو۔جیسا کہ اس عزیز کا ہو ا۔آمین۔اس عزیز نوجوان کی صلاحیت اور تقویٰ کی وجہ سے حضرت اقدس کو بھی اس سے غایت درجہ کی محبت تھی، جو کہ حضرت مسیح موعود کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے دوگرامی ناموں سے ظاہر ہوگا۔جو ذیل میں درج ہیں۔اول خط وہ ہے جس کا پہلے ذکر کر آیا ہوں کہ وہ آں عزیز کے دم واپسی کے وقت ملا۔اور دوسرا اس مخبر صادق کی طرف سے تعزیت نامہ ہے۔حضرت اقدس کا تسلی دلانے والا مکتوب: ووو ” بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی مرزا ایوب بیگ صاحب و مجبی عزیزی مرز ا یعقوب بیگ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اس وقت جو میں در دسر اور موسمی تپ سے یک دفعہ بیمار ہو گیا ہوں، مجھ کو تار ملا جس قدر میں عزیزی مرزا ایوب بیگ کیلئے دعا میں مشغول ہوں اس کا علم تو خدا تعالیٰ کو ہے۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہرگز نا امید نہیں ہونا چاہئے۔میں تو سخت بیماری میں بھی آنے سے فرق نہ کرتا لیکن میں تکلیف کی حالت میں ایسے عزیز کو دیکھ نہیں سکتا، میرا دل جلد صدمہ قبول کرتا ہے۔یہی چاہتا ہوں کہ تندرستی اور صحت میں دیکھوں۔جہاں تک انسانی طاقت ہے اب میں اس سے زیادہ کوشش کروں گا۔مجھے پاس اور نزدیک سمجھیں نہ دُور۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن سے میں اس درد دل کو بیان کروں۔خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہرگز نا امید مت ہو۔خدا بڑے کرم اور فضل کا مالک ہے۔اس کی قدرت اور فضل اور رحمت سے کیا دُور ہے کہ عزیزی ایوب بیگ کو تندرستی میں جلد تر دیکھوں۔اس علالت کے وقت جو تار مجھ کو ملا میں