اصحاب احمد (جلد 1) — Page 99
98 مرزا صاحب کے خصائل حمیدہ: مرزا ایوب بیگ صاحب رقت سے قرآن مجید پڑھتے، مومنین کے ذکر پر عجز سے دعا کرتے کہ ان جیسے اعمال کی توفیق ملے اور کفار و منافقین کے ذکر پر عجز سے دعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے نہ بنائے۔سجدہ میں آدھ آدھ گھنٹہ دعا کرتے۔قرآن مجید کے احکام پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرآن مجید سے نشان لگائے ہوئے تھے کہ جنہیں تلاوت کے وقت بالخصوص مدنظر رکھنا چاہئے۔بعض دفعہ کوئی آیت لکھ کر اپنے رہنے کی جگہ پر لٹکا دیتے تا وہ ہمیشہ پیش نظر رہے۔رمضان مبارک میں ایک بار قرآن مجید ضرورختم کرتے اور آخری مرض میں حفظ کرنا بھی شروع کیا تھا اور کچھ حصہ حفظ بھی کر لیا تھا۔اسی طرح حدیث کے مطالعہ کا شوق تھا۔اور کوشش کرتے تھے کہ ہر ایک سنت پر عمل کریں حتی کہ اکل و شرب میں بھی ان چیزوں کو رغبت سے کھاتے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرغوب تھیں، چنانچہ شہد اور سر کہ اکثر کھانے کے ساتھ کھاتے۔نماز اول وقت خشوع و خضوع سے پڑھتے اور تہجد مداومت سے ادا کرتے اور بعض اوقات گریہ وزاری کی آواز سے پاس کے سوئے ہوئے جاگ پڑتے اور دیکھتے کہ آپ سجدہ میں پڑے ہیں۔مرحوم حدیث کے مطابق اپنے بھائی کے لئے وہی بات پسند کرتے جو اپنے لئے پسند کرتے۔ہمیشہ جستجو میں رہتے کہ دوسروں کی خدمت کا موقعہ میسر آئے اور دعا لے سکیں۔آپ جن دنوں چیفس کالج لاہور میں پڑھاتے تھے قریباً ہر شام کو یا جس دن قانون کی جماعت کا لیکچر ہوتا لا ہور آتے اور قریباً ہر ایک دوست کے گھر پر ملاقات کر کے واپس جاتے۔اور بالالتزام جلسہ احمدیہ میں شامل ہوتے۔اگر کوئی دوست بیمار ہوتا تو کثرت سے بیمار پرسی کے لئے جاتے۔ایک دفعہ مکرم مفتی محمد صادق صاحب سخت بیمار ہوئے ان کی خدمت کے لئے کئی روز تک ان کے پاس رہ کر دن رات خدمت کی اور بول و براز تک اٹھانے سے دریغ نہ کیا۔آپ اپنے ہم جماعتوں سے بلالحاظ مذہب نیک سلوک کرتے دعائیں کرتے مذہبی بحث کرتے اور یہ لوگ آپ کے مذہبی جوش کی وجہ سے آپ کو مجاہد کہتے تھے۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۶ء کی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے مجھے کسی کام کیلئے لاہور بھیجا گیا۔ان دنوں شاید مرزا ایوب بیگ صاحب کا کوئی رشتہ دار پولیس میں ملازم تھا جس کے پاس آپ رہتے تھے۔مجھے مرزا صاحب اتفاق سے مل گئے۔پہلے کوئی * میرے دریافت کرنے پر مکرم مفتی صاحب نے فرمایا کہ مجھے یاد نہیں، لیکن مرزا صاحب جس طبیعت کے آدمی تھے اس کے پیش نظر ان سے یہ امر بعید نہیں۔(مؤلف)