اصحاب احمد (جلد 1) — Page 92
91 رض ہی نے سکھایا تھا۔مرحوم محبت سے بعض اوقات حضرت مولوی صاحب سے چمٹ جاتے اور آپ بھی مرحوم کو سینے سے لگا لیتے اور بہت رقت اور محبت سے دعائیں کرتے اور انہیں ہمیشہ اپنا بچہ کہا کرتے تھے۔آپ نے مرحوم کی وفات کو بہت محسوس کیا۔پہلی بار زیارت قادیان : بیعت کے قریباً ایک سال بعد مارچ ۱۸۹۳ء میں پہلی بار آپ اور آپ کے بھائی مرزا یعقوب بیگ صاحب قادیان آئے۔ان دنوں مہمان خانہ اور مدرسہ وغیرہ کی عمارات نہیں بنی تھیں۔پریس کے لئے صرف ایک کمرہ تھا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفتہ المسیح الاول ) رضی اللہ عنہ قادیان میں تشریف رکھتے تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ بھی کچھ عرصہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔ان دونوں بھائیوں اور مولوی صاحب کے سوا اور کوئی مہمان نہ تھا۔حضرت کے سکونتی مکان کی شرقی جانب آئینہ کمالات اسلام، طبع ہورہی تھی۔حضرت اکثر حصہ وقت کا مہمانوں کے پاس ہی ڈیوڑھی سے اوپر والے مکان میں گذارتے تھے۔جس میں پھر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رہنے لگے تھے۔کھانا بھی اکثر حضرت خود ہی اندر سے لایا کرتے تھے۔یہ دو تین دن کی صحبت مرحوم کے لئے تقویت ایمان کا باعث بنی۔اور اس سے پہلے مخالفت کے خوف سے جو بیعت اپنے والد صاحب سے مخفی رکھی گئی تھی۔اس کا اظہار واپس جا کر ان پر کر دیا۔مرزا ایوب بیگ صاحب کے والد صاحب کا بیعت ہونا : ایک دفعہ مرزا صاحب موصوف کے والد صاحب نے ایک دوست سے ذکر کیا کہ میں گھنٹوں سوچ میں پڑا رہتا تھا کہ میں نے بچوں پر انتار و پیہ صرف کیا اور تعلیم دلائی۔لیکن ان کی دینی حالت مایوس کن ہے۔قرآن مجید سے رغبت نہیں، کبھی ایک آدھ نماز میری دیکھا دیکھی پڑھ لی تو پڑھ لئی ورنہ نماز سے دلی لگاؤ کوئی نہیں۔لیکن جب ۱۸۹۲ء اور ۱۸۹۳ء کی تعطیلات میں میرے بچے گھر آئے تو ان میں عجیب تغیر دیکھا کہ نماز سوز و گداز سے پڑھتے ہیں۔معلوم ہوا کہ یہ تبدیلی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیعت ہونے کی وجہ سے ہے۔چنانچہ ڈاکٹر بقيه حاشيه : شیخ رحمت اللہ صاحب (غیر مبائع) کا ذکر ہے۔( اور اس کی تصدیق حضرت مفتی محمد صادق کی روایت سے بھی ہوتی ہے۔دیکھئے ذکر حبیب صفحہ ۱۹ و ۲۰) مجد داعظم میں مرقوم ہے: لا ہور کے ایک بازار میں ایک دفعہ ایک شخص جو خود مہدی ہونے کا مدعی بنا پھرتا تھا آپ سے لپٹ گیا اور بُری طرح آپ کو پکڑ کر گھسیٹا اور کہنے لگا۔تو کہاں سے مہدی بن گیا، مہدی تو میں ہوں۔شیخ رحمت اللہ صاحب نے اُسے مارنا چاہا۔مگر حضرت مرزا صاحب نے روک دیا اور اُسے کچھ نہ کہا۔مولانا نورالدین علیہ الرحمہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ شخص بعد میں جلد ہی ہلاک ہو گیا۔“ ( حصہ اول صفحه ۳۲۹) (مؤلف)