اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 91 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 91

90 نمونہ دیکھ کر مرزا ایوب بیگ صاحب کو آپ سے غایت درجہ کی محبت ہو گئی۔اکثر آپ کے لیکچر سنے کا اتفاق ہوتا۔آپ کے پاس تمام دن اور رات کے دس گیارہ بجے تک لوگوں کا ہجوم رہتا۔اور تمام دن وعظ و نصیحت کرنے اور سوالات حل کرنے اور قرآن مجید کے معارف سمجھانے میں صرف ہوتا تھا۔مرحوم پڑھائی سے فارغ ہوکر اکثر اوقات آپ کی خدمت میں گزارتے۔رات کو وعظ قرآن مجید سن کر اپنے مکان پر چلے جاتے۔اور نماز فجر سے بہت پہلے آپ کی قیام گاہ پر پہنچتے اور آپ کے ساتھ ہی صبح کی نماز ادا کرتے۔سورہ فاتحہ نماز میں کس طرح پڑھنی چاہئے اور کس طرح اسے اپنے روحانی و دنیوی مطالب و مشکلات کے حل کے لئے ذریعہ بنانا چاہئے۔پہلے پہل بقيه حاشیه: لیکن رجسٹر بیعت جو اس وقت کا لکھا ہوا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد دام میہم کے پاس موجود ہے۔اس کی نقل جو میرے پاس ہے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یکم فروری ۱۸۹۲ء میں زیر نمبر ۲۱۷ یوں درج ہے۔ایوب بیگ ولد مرزا نیاز بیگ بعمر پانزده سالہ سکنہ کلانور ضلع گورداسپور لا ہور۔طالب علم جماعت چہارم انٹرنس مدرستہ العلوم لا ہوں“۔اور پانچ فروری ۱۸۹۲ ء زیر نمبر الف نمبر ۲۲۰ مرقوم ہے۔یعقوب بیگ ولد مرزا نیاز بیگ طالب علم مدرستہ العلوم لاہور۔برا در کلاں ایوب بیگ۔یہ ظاہر ہے کہ انہیں میں سال بعد تحریر کردہ غیر مطبوعہ روایت سے بیعت کے وقت کا اندراج تاریخ کے لحاظ سے یقیناً زیادہ صحیح ہوگا۔( مجدد اعظم والی روایت کا سن معلوم نہیں رجسٹر کا اندراج ظاہر کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو غلطی لگی۔ایک تو مرزا ایوب بیگ صاحب کی بیعت مباحثہ سے پہلے کی ہے نہ کہ بعد کی۔دوسرے یہ مباحثہ دیلی نہیں بلکہ مباحثہ لا ہور تھا۔تیسرے ڈاکٹر صاحب کی بیعت مرزا ایوب بیگ کی بیعت سے ایک دن قبل کی نہیں، بلکہ چار دن بعد کی ہے۔اور اس کے بعد میں ہونے کا ایک وزنی ثبوت یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا تعارف رجسٹر میں بطور ” برادر کلاں ایوب بیگ“ کرایا گیا ہے۔گویا کہ مرزا ایوب بیگ صاحب زیادہ معروف ہو چکے تھے۔جس کی وجہ چند روز قبل بیعت کر لینے کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی تھی۔رجسٹر بیعت ڈاکٹر صاحب موصوف کو بوقت بیعت مدرستہ العلوم کا طالب علم بتاتا ہے لیکن مجدد اعظم میں میڈیکل کالج کا طالب علم۔رجسٹر بیعت کا اندراج زیادہ قرین قیاس ہے۔کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے ڈاکٹری کا امتحان جولائی ۱۸۵۷ء میں پاس کیا۔(بحوالہ نزول مسیح صفحہ ۲۳) اس کا نصاب پانچ سالہ تھا۔گویا کہ آپ ۱۸۹ء میں میڈیکل سکول میں داخل ہوئے۔۵ فروری کو میڈیکل سکول میں داخل ہو چکا ہونا واقعاتی لحاظ سے یوں غلط ہے کہ ابتدائے فروری میں میڈیکل سکول کے داخلہ کا مطلب یہ ہے کہ انٹرنس کا امتحان دسمبر میں ہو اور جنوری میں نتیجہ نکل آئے۔لیکن اس طرح کبھی نہیں ہوا۔سولا ز ما ڈاکٹر صاحب بوقت بیعت ابھی مدرستہ العلوم کے ہی طالب علم ہو نگے۔گو یہ درست ہوگا کہ بعد میں اسی سال انٹرنس پاس کر کے میڈیکل کالج میں داخل ہوئے ہونگے۔ڈاکٹر صاحب کے غیر مطبوعہ مسودہ میں ذکر ہے کہ دیوانہ کو جس نے حضرت پر حملہ کر دیا تھا۔سید فصیلت علی شاہ صاحب اور سیدامیر علی شاہ صاحب وغیرہ کئی دوستوں نے پکڑ لیا۔لیکن روایت مجد داعظم میں صرف (بقیہ اگلے صفحہ پر )