اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 90 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 90

89 بیعت کے بعد انقلاب روحانی: ان ایام میں مرزا ایوب بیگ صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک تعلیم اعلیٰ اخلاق تحمل اور بردباری کا نمونہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔اور اخلاق فاضلہ کو اپنے اندر پیدا کرنے کا غایت درجہ شوق اور کلام الہی سننے اور پڑھنے سے ایک خاص قسم کا دلی لگاؤ اور عشق پیدا ہو گیا۔مدارس کی ایک پر غفلت زندگی اور مروجہ تعلیم انگریزی وغیرہ میں ہمہ تن مصروفیت کے سبب بچپن کا پڑھا ہوا قرآن مجید ناظرہ بھول چکا تھا۔اب مولوی رحیم اللہ صاحب لاہوری سے دوبارہ شروع کر کے ایک سال میں باترجمہ پڑھ لیا۔حضرت خلیفہ ایسیح الاوّل سے محبت : حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ مسیح الاول ) رضی اللہ عنہ جموں میں ملازم تھے۔اور آپ کو اکثر لا ہور آنے کا موقعہ ملتا تھا۔آپ کا قرآن مجید سے سچا اخلاص اور محبت و عشق اور اعلی درجہ کا روحانی اور اخلاقی بقيه حاشیه : کا واقعہ گومیری بیعت (۱۸۹۵ء) سے پہلے کا ہے لیکن میں نے صحابہ سے سنا ہوا ہے اور درست ہے اور مسجد سے غالباً چینیاں والی مسجد مراد ہے۔(ب) واقعہ بیعت کی تفصیل مجد داعظم حصہ اول میں یوں تحریر ہے ”حضرت اقدس ابھی لاہور میں مقیم تھے جو ایک روز مرزا یعقوب بیگ صاحب زیارت کے لئے حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب ان دنوں میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے۔اب آگے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کی قلم سے سُنو۔لکھتے ہیں : ہم بیٹھک میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔تو وہاں ایک عجیب واقعہ دیکھا کہ حضرت صاحب کچھ لوگوں سے محو کلام تھے۔اتنے میں ایک آدمی نے آ کر آپ کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔آپ خاموش سر جھکا کر سنتے رہے اور وہ بکتا رہا جب وہ خاموش ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ بھائی اور بھی کچھ کہنا ہے تو کہہ ڈالو۔اس پر وہ بہت نادم ہو کر معافی کا خواستگار ہوا۔حاضرین میں سے ایک تعلیم یافتہ ہندو کہنے لگا کہ حضرت مسیح کے حمل کے متعلق بائیبل میں پڑھا ہوا تھا۔مگر ایسا نمونہ آج دیکھنے میں آیا ہے۔اس نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص کامیاب ہو جائے گا۔ان واقعات نے میرے دل پر کچھ ایسا اثر کیا کہ میں نے بیعت کر لی۔اس سے دوسرے روز میرے بھائی مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم بھی داخل بیعت ہو گئے۔مخالفت کی شدت کی وجہ سے اس بات کو اتنا مخفی رکھا گیا کہ اس وقت خود ہم دونوں بھائی بھی ایک دوسرے کے متعلق نہیں جانتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک نے بیعت کر لی ہے۔بعد میں پتہ لگا۔“ A اس بارہ میں مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی فرماتے ہیں کہ ”میری تحقیقات میں وہ ( یعنی مرزا ایوب بیگ صاحب) اپنے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔گو ان کے برادر بزرگ مخدومی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم و مغفور کہتے تھے کہ میں نے پہلے بیعت کی ہے۔لیکن چونکہ ایک دوسرے کو پتہ نہ تھا اس لئے تقدیم تاخیر کی بحث ہوسکتی ہے۔“ 1 مجد داعظم کی روایت ڈاکٹر صاحب کو میڈیکل کالج کا طالب علم بتاتی ہے اور مرزا مسعود بیگ صاحب بھی تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی یادداشتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بوقت بیعت وہ میڈیکل کالج میں تعلیم پاتے تھے (بقیہ اگلے صفحہ پر )