اصحاب احمد (جلد 1) — Page 68
67 میں چھپا تھا، جس کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض یہ بھی ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقعہ ملے۔اور ان کے معلومات دینی وسیع ہوں، اور معرفت ترقی پذیر ہو۔اب سنا گیا ہے کہ اس کارروائی کو بدعت بلکہ معصیت ثابت کرنے کے لئے ایک بزرگ نے ہمت کر کے ایک مولوی صاحب کی خدمت میں جو رحیم بخش نام رکھتے ہیں، اور لاہور میں چینیاں والی مسجد کے امام ہیں ایک استفتا پیش کیا جس کا یہ مطلب تھا کہ ایسے جلسہ پر روز معین پر ڈور سے سفر کر کے جانے میں کیا حکم ہے اور ایسے جلسہ کے لئے اگر کوئی مکان بطور خانقاہ کے تعمیر کیا جائے تو ایسے مدد دینے والے کی نسبت کیا حکم ہے استفتاء میں یہ آخری خبر اس لئے بڑھائی گئی جو مستفتی صاحب نے کسی سے سنا ہوگا، جو جبی فی اللہ اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب نے اس مجمع مسلمانوں کے لئے اپنے صرف سے جو غالباً سات سو روپیہ یا کچھ اس سے زیادہ ہوگا قادیان میں ایک مکان بنوایا، جس کی امداد خرچ میں اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی نے بھی تین چار سو روپیہ دیا ہے۔اس استفتاء کے جواب میں میاں رحیم بخش صاحب نے ایک طول طویل عبارت ایک غیر متعلق حدیث شد رحال کے حوالہ سے لکھی ہے جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں کہ ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کرنا محدثات میں سے ہے، جس کے لئے کتاب اور سنت میں کوئی شہادت نہیں، اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے اے۔حضور اس اشتہار میں شرح وبسط کے ساتھ اس فتوی کی تردید میں لکھتے ہیں کہ احادیث طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَة عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَةٍ اور اُطلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ كَانَ بِالصِّينِ کی روسے حصول علم دین کے لئے بھی سفر فرض قرار دیا گیا ہے اور حضرت امام بخاری کے سفر طلب علم حدیث کے لئے مشہور ہیں۔زیارت صالحین کے لئے بھی سفر کیا جاتا ہے۔جیسے حضرت عمرؓ نے حضرت اویس قرنی کی ملاقات کے لئے سفر کیا۔اور اپنے مرشدوں سے ملنے کے لئے اولیائے کبار مثلاً حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ، حضرت بایزید بسطامی حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجدد الف ثانی نے سفر کئے۔اسی طرح اقارب کی ملاقات، تلاش معاش شادی پیغام رسانی، جہاد مباحثہ مباہلہ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ کے مطابق عجائبات دنیا کے دیکھنے عیادت علاج کرانے مقدمہ اور تجارت کے لئے بھی سفر کئے جاتے ہیں۔وغیرہ۔