اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 67 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 67

66 اُٹھا کر دیکھا تو اس کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پایا۔تب میں نے بیعت کر لی۔آپ نے اس وقت ایمان لانے میں سبقت کی جب کہ دیگر علما ء اپنے سینوں میں کفر کے فتاوے کی آگ مشتعل کر رہے تھے۔ابتدائی رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت کا اندراج ملتا ہے۔جہاں زیر نمبر ۱۵ مرقوم ہے: مولوی رحیم اللہ ولد حبیب اللہ قوم راجپوت ساکن لاہور محلہ لنگے منڈی پیشہ وعظ اور تاریخ بیعت ۳۰ اگست ۱۸۹۱ ء ہے۔۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شرکت : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ پر علماء کہلانے والوں نے جو شور وشر بر پا کیا اور عوام کو حضور کے خلاف برانگیختہ کرنے کے لئے کذب بیانی اور دروغ گوئی جیسے گندے ہتھیار استعمال کرنے شروع کئے یہ امر کسی پر مخفی نہیں۔حتی کہ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ اور تو اور ایک معین تاریخ پر جلسہ کے انعقاد کو بھی بدعت قرار دیا گیا۔چنانچہ حضور نے ۱۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کو اس فتویٰ کی تردید میں ایک اشتہار بعنوان ” قیامت کی نشانی شائع کیا۔اس زمانہ کے حالات کو سامنے لانے کے لئے اس اشتہار کا ایک بہت ہی مختصرا اقتباس درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضور فرماتے ہیں: سال گذشتہ میں بمشورہ اکثر احباب یہ بات قرار پائی تھی کہ ہماری جماعت کے لوگ کم سے کم ایک مرتبہ سال میں بہ نیت استفادہ ضروریات دین ومشوره اعلاء کلمه ء اسلام و شرع متین اس عاجز سے ملاقات کریں اور اس مشورہ کے وقت یہ بھی قرین مصلحت سمجھ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ۲۷ دسمبر کو اس غرض سے قادیان میں آنا انسب اور اولیٰ ہے کیونکہ یہ تعطیل کے دن ہیں اور ملازمت پیشہ لوگ ان دنوں میں فرصت اور فراغت رکھتے ہیں اور بباعث ایام سرمایہ دن سفر کے مناسب حال بھی ہیں۔چنانچہ احباب اور مخلصین نے اس مشورہ پر اتفاق کر کے خوشی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ بہتر ہے۔اب ۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کو اسی بناء پر اس عاجز نے ایک خط بطور اشتہار کے تمام مخلصوں کی خدمت میں بھیجا، جو ریاض ہند پر لیس قادیان * بروایت نمبر ۴۷۴ مندرجہ سیرۃ المہدی حصہ سوم ابتدائی رجسٹر بیعت جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سلسلہ بیعت شروع ہونے پر بیعت کرنے والوں کے اسماء درج فرمایا کرتے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضھم کے پاس ہے۔آپ کو حضرت میر محمد الحق صاحب سے ملا تھا۔(مؤلف)