اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 51 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 51

51 آج رات کو ( مبارک احمد نے مجھے بلایا اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور مصافحہ یا جیسے اب کہیں رخصت ہوتا ہے اور آخری ملاقات کرتا ہے۔جب یہ الہام اني اسقط من الله و اصيبه ہوا تھا تو میرے دل میں کھٹکا ہی تھا، اسی واسطے میں نے لکھ دیا تھا کہ یا یہ لڑکا نیک ہوگا رو بخدا ہوگا اور یا یہ کہ جلد فوت ہو جائے گا۔قرآن شریف پڑھ لیا تھا، کچھ کچھ اردو بھی پڑھ لیتا تھا۔اور جس دن بیماری سے افاقہ ہوا میرا سارا اشتہار پڑھا۔اور یا کبھی کبھی پرندوں کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہو جا تا تھا۔فرمایا۔بڑا ہی بد قسمت وہ انسان ہے جو خدا تعالیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے۔خدا کے ساتھ تو دوست والا معاملہ چاہئے، کبھی اس کی مان لی اور کبھی اپنی منوالی ریخت خویش برخوردار باشی بشرط آں کہ با من یار باشی ”ہمارے گاؤں میں ایک شخص تھا۔اس کی گائے بیمار ہوگئی۔صحت کے لئے دعائیں مانگتا رہا ہوگا، مگر جب گائے مر گئی تو وہ دہر یہ ہو گیا۔” خدا نے اپنی قضاء و قدر کے راز مخفی رکھے ہیں اور اس میں ہزاروں مصالح ہوتے ہیں۔میرا تجربہ ہے کہ کوئی انسان بھی اپنے معمولی مجاہدات اور ریاضات سے وہ قرب نہیں پاسکتا جو خدا کی طرف سے ابتلاء آنے پر پاسکتا ہے۔زور کا تازیانہ اپنے بدن پر کون مارتا ہے؟ خدا بڑا رحیم و کریم ہے۔ہم نے تو آزمایا ہے ایک تھوڑا سا دُکھ دے کر بڑے بڑے انعام و اکرام عنایت فرماتا ہے۔وہ جہان ابدی ہے۔جو لوگ ہم سے جدا ہوتے ہیں وہ تو واپس نہیں آ سکتے۔ہاں ہم جلدی ان کے پاس چلے جاویں گے۔اس جہان کی دیوار کچی ہے اور وہ بھی گرتی جاتی ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہاں سے انسان نے لے ہی کیا جانا ہے اور پھر انسان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کب جانا ہے۔جب جائے گا بھی تو بے وقت جائے گا اور پھر خالی ہاتھ جائے گا۔ہاں اگر کسی کے پاس اعمال صالحہ ہوں تو وہ ساتھ ہی جائیں گے۔بعض آدمی کرنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں میرا اسباب دکھا دو۔اور ایسے وقت میں مال و دولت کی فکر پڑ جاتی ہے۔” ہماری جماعت کے لوگ بھی اس طرح کے ابھی بہت ہیں جو شرطی طور پر خدا کی عبادت