اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 50 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 50

50 نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے اس لئے اس تقسیم کے ماتحت چلنے کی کوشش کی جاوے۔ایک حصہ تو اس کا یہ ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو مانتا ہے۔اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ وہ اپنی منواتا ہے۔جو شخص ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ خدا ہمیشہ اسی کی مرضی کے مطابق کرتا ر ہے اندیشہ ہے کہ شاید وہ کسی وقت مرتد ہو جاوے۔کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پر ہی تکلیف اور ابتلاء کا زمانہ آیا ہے بلکہ ابتداء سے سب بیوں پر آتا رہا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا جب فوت ہوا تھا تو کیا انہیں غم نہیں ہوا تھا ؟ ایک روایت میں لکھا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلعم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے تھے۔آخر بشریت ہوتی ہے غم کا پیدا ہونا ضروری ہے مگر ہاں صبر کرنے والوں کو پھرڑے بڑے اجر ملا کرتے ہیں۔خدا تعالی کی ساری کتابوں کا منشاء یہی ہے کہ انسان رضاء بالقضاء سیکھے۔جو شخص اپنے ہاتھ سے آپ تکلیف میں پڑتا ہے اور خدا کے لئے ریاضات اور مجاہدات کرتا ہے وہ اپنے رگ پٹھے کی صحت کا خیال بھی رکھ لیتا ہے۔اور اکثر اپنی خواہش کے موافق ان اعمال کو بجالاتا ہے اور حتی الوسع اپنے آرام کو مدنظر رکھتا ہے، مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان پڑتا ہے اور کوئی ابتلاء آتا ہے تو وہ رگ اور پٹھے کا لحاظ رکھ کر نہیں آتا۔خدا کو اس کے آرام اور رگ پھٹے کا خیال مدنظر نہیں ہوتا۔انسان جب کوئی مجاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنا تصرف رکھتا ہے مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔انسان خدا کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔اسی واسطے ادعوني استجب لكم میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بشارت نہیں دی، مگر وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ۔۔۔۔۔۔۔الآيه۔میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔غرض یہی طریق ہے جس سے انسان خدا کو راضی کر سکتا ہے۔نہیں تو اگر خدا کے ساتھ شریک بن جاوے اور اپنی مرضی کے مطابق اسے چلانا چاہے تو یہ ایک خطرناک راستہ ہوگا، جس کا انجام ہلاکت ہے۔ہماری جماعت کو منتظر رہنا چاہئے کہ اگر کوئی ترقی کا ایسا موقعہ آ جاوے تو اس کو خوشی سے قبول کیا جاوے۔