اصحاب احمد (جلد 1) — Page 49
49 ۶ استمبر بروز دوشنبہ کو صاحبزادہ کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذیل کی تقریر فرمائی۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی وفات پر حضرت اقدس کی تقریر باغ میں : فرمایا! قضاء وقدر کی بات ہے اصل مرض سے (مبارک احمد نے ) بالکل مخلصی پالی تھی بالکل اچھا ہو گیا تھا، بخار کا نام نشان بھی نہ رہا تھا۔یہی کہتا رہا کہ مجھے باغ میں لے چلو۔باغ کی خواہش بہت کرتا تھا سو آ گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کے ساتھ ہی موت کی خبر دے رکھی تھی۔تریاق القلوب میں لکھا ہے انی اسقط من الله و اصيبه، مگر قبل از وقت ذہول رہتا ہے اور ذہن منتقل نہیں ہوا کرتا۔پھر ایک جگہ پیشگوئی ہے ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر پھر کئی دفعہ یہ الہام بھی ہوا ہے۔اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهَبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمُ تَطْهِیراً۔اور پھر اہل بیت کو مخاطب کر کے فرمایا ہے یا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِ اللَّه خَلَقَكُم اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے یہ بڑا تظہیر کا موقعہ ہے ان کو بڑے بڑے تعلقات ہوتے ہیں اور ان کے ٹوٹنے سے رنج بہت ہوتا ہے۔میں تو اس سے بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی۔گھر کے آدمی اس کی بیماری میں بعض اوقات بہت گھبرا جاتے تھے۔میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ آخر نتیجہ موت ہی ہونا ہے یا کچھ اور ہے۔دیکھو ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ادعونی استجب لکم یعنی اگر تم مجھ سے مانگو تو قبول کروں گا۔اور دوسری جگہ فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخُوْفِ۔۔۔۔۔۔۔أُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے بھی امتحان آیا کرتے ہیں مجھے بڑی خوشی اس بات کی بھی ہے کہ میری بیوی کے منہ سے سب سے پہلا کلمہ جو نکلا ہے وہ یہی تھا کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کوئی نعرہ نہیں مارا کوئی چینیں نہیں ماریں۔اصل بات یہ ہے کہ دنیا میں انسان اسی واسطے آتا ہے کہ آزمایا جاوے۔اگر وہ اپنی منشا کے موافق خوشیاں مناتا رہے اور جس بات پر اس کا دل چاہے وہی ہوتا رہے تو پھر ہم اس کو خدا کا بندہ نہیں کہہ سکتے۔اس واسطے ہماری جماعت کو اچھی طرح سے یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ * نقل مطابق اصل (مؤلف)