اصحاب احمد (جلد 1) — Page 39
39 ہو گیا۔اگر چہ اور بھی کئی خورد سال بچے حضرت مسیح موعود کے خوردسالی میں فوت ہو چکے ہیں مگر اس بچے کی عجیب سوانح قابل تذکرہ ہیں کیونکہ وہ طرح طرح کے نشانوں کا مجموعہ تھا۔اس کی پیدائش کی بھی خدا نے خبر دی اور پھر یہ بھی خبر دی کہ وہ خوردسالی میں وفات پا جائے گا۔اور پھر یہ بھی خبر دی کہ اس کی پیدائش موجب ترقی ، اقبال ہوگی۔چنانچہ اس کے پیدا ہونے کے بعد ہی ترقی شروع ہوئی اور کئی لاکھ انسان اس سلسلہ میں داخل ہو گیا اور خدا نے ہر ایک پہلو سے نصرت اور تائید کی۔اگر چہ ہر ایک انسان کسی بچہ کے فوت ہونے سے خواہ کیسا ہی چھوٹا ہو نگین ہوتا ہے۔مگر یہ خدا کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ مبارک احمد کی وفات سے حضرت مسیح موعود کو ایک پہلو سے خوشی ہوئی۔کیونکہ جیسی کہ پیشگوئی تھی کہ وہ چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے گا وہ نشان ظاہر ہو گیا۔پس اس کی خوردسالی کی موت بھی اسلام کی نصرت اور تائید کا موجب ہوئی اور یہی وہ امر ہے جو حضرت مسیح موعود کے لئے خوشی کا موجب ہوا۔۔۔۔۔۔۔اور موت کے قریب اس نے حضرت مسیح موعود کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں بڑی محبت سے لیا اور ہاتھ سے ہاتھ ملایا۔گویا آخری ملاقات کی۔اور علاج کرنے والوں کو علاج سے منع کر کے کہا کہ اب مجھے نیند آ گئی ہے اور جب دیکھا تو وفات پاچکا تھا۔غرض کہ یہ لڑ کا کیا بوجہ پیدائش کے اور کیا بوجہ اپنی موت کے اور کیا بوجہ ترقیات سلسلہ کے خدا کا ایک نشان تھا اور اس کی پیدائش سے کچھ دن پہلے حضرت مسیح موعود کو بطور اس کے قول کے یہ الہام ہوا کہ میں خدا کی طرف سے گرتا ہوں اور خدا کے ہاتھ سے پیدا ہوتا ہوں۔یعنے میں ناپاک جذبات سے مطہر اور فرشتوں کی طرح ہوں۔پس چونکہ وہ مبارک تھا اس لئے اس کا نام مبارک رکھا گیا تھا۔اور دنیا میں وہ محض نشان دکھلانے کے لئے آیا تھا اور جب وہ پیٹ میں تھا تو کسی نے خواب میں اس کی والدہ کو کہا کہ یہ لڑ کا مبارک ہے۔اس کا نام دولت احمد رکھو۔۲۰ مگر دوسرے الہام کے مطابق اس کا نام مبارک احمد ہی رکھا گیا اور وہی نام زیادہ مشہور ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اس میں شک نہیں کہ بعض نادان دشمن اس پر خوشیاں منائیں گے۔لیکن اُن کی خوشیاں منانا بھی مومنین کے واسطے ایک نشان ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آج سے پندرہ ماہ قبل اس