اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 40 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 40

40 امر کی خبر کر دی تھی کہ اس لڑکے کے فوت ہونے پر دشمنوں کو خوشی سے اچھلنے کا موقعہ ملے گا۔مگر جس قدر وہ خوشی کریں گے اسی قدر اپنے ہاتھوں سے اس پیشگوئی کو پورا کریں گے۔اور اس بارہ میں چند سطور بطور شہادت اخبار بدر سے ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ایک وہ الہام ہے جو مخالفوں کی خوشی کو ظاہر کرتا ہے اور وہ یہ ہے الہام الہی۔دشمن کا بھی ایک وار نکلا۔وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِ لُهَا بَيْنَ النَّاسِ۔“ دیکھو بدر مورخہ ۳ مئی ۱۹۰۶ء۔یعنی کوئی ایسا امر رنجدہ خدا کی طرف سے ہماری نسبت یا ہماری جماعت کے کسی فرد کی نسبت صادر ہوگا جس سے دشمن خوش ہو جائے گا۔اور وہ امر نجدہ خدا کی طرف سے ہوگا یا دشمن کا اس میں کچھ دخل ہوگا۔اور پھر خدا فرماتا ہے کہ یہ دن خوشی اور غم یا فتح اور شکست کے ہم نوبت به نوبت لوگوں میں پھیرا کرتے ہیں۔بعض وقت خوشی اور فتح خدا کی جماعت کو ملتی ہے اور دشمن ذلیل اور شرمسار ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بدر کی لڑائی میں و پھر دوسری مرتبہ جنگ اُحد میں کفار کی خوشی کی نوبت آئی، یعنی جنگ اُحد کی لڑائی میں دردناک شہادتیں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نصیب ہوئیں، اور خود آنحضرت زخمی ہوئے اور ایک تہلکہ برپا ہوا اور اس وقت بعض ان لوگوں کے دلوں میں جو عادت اللہ سے ناواقف تھے۔یہ خیال بھی آیا کہ جس حالت میں ہم حق پر ہیں اور ہمارے مخالف باطل پر ہیں تو یہ مصیبت ہم پر کیوں آئی۔تب ان کا جواب اللہ تعالیٰ نے وہ دیا جو قرآن شریف میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ ان يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ - یعنی اگر تم کو اُحد کی لڑائی میں دُکھ اور تکلیف پہنچی ہے تو بدر کی لڑائی میں بھی تو تمہارے مخالفوں کو ایسی ہی تکلیف پہنچی تھی۔اور ایسا ہی دُکھ اور نقصان اُٹھانا پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس دن سے جو خدا نے دنیا پیدا کی یہ قانون چلا آیا ہے کہ کبھی کوئی ایسی تائید اور نصرت ظاہر ہوتی ہے جس سے مومن خوش ہو جاتے ہیں اور کبھی کوئی ایسا ابتلاء مومنوں کے لئے پیش آ جاتا ہے جو کا فر مارے خوشی کے اچھلتے پھرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ اس وحی مقدس میں بھی جو آج اس عاجز پر نازل ہوئی فرماتا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ کچھ عرصہ سے متواتر خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید رحمت کے نشانوں کے رنگ میں اس عاجز کی نسبت ظاہر ہو رہی